انڈین وزارت خارجہ: ’اگر آپ ڈس انفارمیشن دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کی سب سے واضح مثال ہمارا پڑوسی ملک ہے‘

Vehicle Tracking Solution

انڈین وزارت خارجہ: ’اگر آپ ڈس انفارمیشن دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کی سب سے واضح مثال ہمارا پڑوسی ملک ہے‘

December 12, 2020 International News 0

انڈیا کی وزارت خارجہ نے یورپی تنظیم ای یو ڈس انفو لیب کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انڈیا نواز این جی اوز اور انڈین بیانیے کو پھیلانے کے لیے ڈس انفارمیشن کی مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ پاکستان نے بین الاقوامی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس رپورٹ پر انڈیا کے خلاف اقدامات لے۔

انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستوا نے جمعے کو کہا کہ ‘بحیثیت ایک ذمہ دار جمہوریت، انڈیا ڈس انفارمیشن منصوبوں میں حصہ نہیں لیتا۔’

واضح رہے کہ بیلجئیم کے دارالحکومت برسلز سے کام کرنے والے ادارے ای یو ڈس انفو لیب کی بدھ کو جاری ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ نیٹ ورک انڈین مفادات کے فروغ کے لیے جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق (یو این ایچ سی آر) اور برسلز میں یورپی پارلیمان پر اثر انداز ہونے کے کوشش کرتا ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

برسوں سے پاکستان کے خلاف ہرزہ آرائی کرتے گمراہ کن خبروں کے انڈیا نواز نیٹ ورک کا انکشاف

انڈین نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر پاکستان میں ’خانہ جنگی‘ کی جھوٹی خبریں

پاکستان مخالف پروپیگنڈا، انڈین نیٹ ورک بے نقاب

تحقیقی رپورٹ میں محققین نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ‘یقینی طور پر یہ بالکل نہیں کہہ سکتے کے انڈین کرونیکلز کے چلانے والوں میں انڈیا کی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے’ لیکن مزید یہ بھی لکھا کہ اس بارے میں مزید تحقیق و تفتیش ہونی چاہیے۔

تاہم انڈیا نے اس الزام کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے اشارہ کیا کہ درحقیقت پاکستان ‘ڈس انفارمیشن’ پھیلا رہا ہے۔

ترجمان نے کہا: ‘اگر آپ ڈس انفارمیشن کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو اس کی سب سے واضح مثال ہے ہمارا پڑوسی ملک جو فرضی دستاویزات پھیلاتا اور مسلسل فیک نیوز کا پرچار کرتا ہے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈس انفارمیشن پھیلانے میں وہ لوگ مصروف ہیں جنھوں نے ماضی میں ‘بین الاقوامی طور پر مطلوب دہشت گردوں، بشمول اسامہ بن لادن کو پناہ دی، اور 2008 کے ممبئی حملوں میں اپنے ملوث ہونے کے ثبوت چھپانے کی کوشش کی۔’

انڈیا عالمی اداروں کو ناجائز طریقے سے اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے

دوسری جانب پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی جمعے کو پریس کانفرنس کی جس میں انھوں نے انڈیا پر الزام لگایا کہ وہ طویل عرصے سے پاکستان کے خلاف ڈس انفارمیشن کی مہم چلانے میں مصروف ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس پریس کانفرنس میں ای یو ڈس انفو لیب کی رپورٹ کا حوالہ دیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انڈیا عالمی اداروں کو ناجائز طریقے سے اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ براہ راست الزام عائد کیا کہ انڈین حکومت اس نیٹ ورک کی فنڈنگ کر رہی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ‘رپورٹ میں پاکستان کو بدنام کرنے میں ملوث نامزد کی گئی دس جعلی این جی اوز کے خلاف فوری ایکشن لے۔’

اس کے علاوہ انھوں نے یورپی پارلیمان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ادارے کو استعمال کیے جانے کے خلاف تحقیق کریں۔

تحقیقی رپورٹ میں انڈین خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) پر بھی الزامات لگائے گئے کہ وہ واحد پریس ایجنسی ہے جو اس مربوط ڈس انفارمیشن نیٹ ورک کی بھرپور کوریج کرتی ہے۔

اس حوالے سے اے این آئی کی ایڈیٹر سمیتا پرکاش نے گذشتہ روز ٹوئٹر پر رد عمل میں کہا کہ ‘پاکستان اور اس کی پراکسی نے کوشش کی ہے کہ وہ اے این آئی کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں اور اس کے لیے انھوں نے فیک نیوز اور بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔’