تحقیق: وادی سندھ کی تہذیب و تمدن کے بارے میں قدیم برتن کیا بتاتے ہیں

Vehicle Tracking Solution

تحقیق: وادی سندھ کی تہذیب و تمدن کے بارے میں قدیم برتن کیا بتاتے ہیں

December 12, 2020 Entertainment News 0

ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ناپید ہو جانے والی وادی سندھ کی تہذیب کے لوگ بڑے پیمانے پر گوشت خور تھے۔ وہ گائے، بھینس، بکری اور بکرے کا گوشت کھاتے تھے۔

اس تحقیق کی بنیاد وادی سندھ کے خطے میں کھدائی میں پائے جانے والے مٹی کے برتن ہیں جس کی بنیاد پر وہاں مروج کھانے پینے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی سے آثار قدیمہ میں پی ایچ ڈی کرنے والے اے سوریہ ناراین اب فرانس میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں۔ انھوں نے وادی سندھ کی تہذیب کے عہد میں کھانے پینے کے طور طریقوں پر تحقیق کی ہے۔ ان کی یہ تحقیق آرکیلوجیکل سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

اگرچہ وادی سندھ کے لوگوں کے طرز زندگی کے بارے میں بہت سی تحقیق کی گئی ہیں لیکن سوریہ نارائن کی اس تحقیق میں بنیادی طور پر اس خطے میں اگائی جانے والی فصلوں پر توجہ دی گئی ہے۔

مجموعی طور پر اس تحقیق میں وہاں اگائی جانے والی فصلوں کے ساتھ لوگوں کے استعمال میں آنے والے مویشیوں اور برتنوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ان کے استعمال والے ظروف کی سائنسی طریقے سے کی جانے والی یہ جانچ بتاتی ہے کہ قدیم ہندوستان کے لوگ ان میں کیا کھاتے پیتے اور پکاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

’گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے‘

ہار جو انڈیا پاکستان کی تقسیم سے جدا ہوا

’انڈیا سے ڈانسنگ گرل واپس منگوائیں گے‘

ماہرین آثار قدیمہ پوری دنیا میں اس طرح کے مطالعے کر رہے ہیں۔ وادی سندھ کی تہذیب کے مقام سے ملنے والے مٹی کے برتنوں پر بھی اسی قسم کی تحقیق کی گئی ہے۔

وادی سندھ کی تہذیب کی فصلیں

وادی سندھ کی تہذیب کے عہد میں جو، گندم، چاول نیز انگور، کھیرا، بینگن، ہلدی، سرسوں، جوٹ، کپاس اور تل کی فصلیں اگائی جاتی تھیں۔

جانوروں میں گائے اور بھینسیں ان کے سب سے اہم مویشی ہیں۔ اس علاقے میں جانوروں کی ہڈی کی باقیات کا 50 سے 60 فیصد حصہ گائے اور بھینسوں پر مشتمل ہے جبکہ تقریباً دس فیصد ہڈیاں بکریوں کی ہیں۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں کے لوگوں کا پسندیدہ گوشت بیف اور مٹن رہا ہوگا۔

باقیات سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ گائے کا دودھ جبکہ بیل کو کاشتکاری کے لیے پالا جاتا تھا۔

اگرچہ کھدائی میں خنزیر کی ہڈیاں بھی ملی ہیں لیکن وہ کس کام آتے ہوں گے یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ کچھ ہرن اور پرندوں کی بھی باقیات ملے ہیں۔

اس تحقیق کے لیے موجودہ انڈیا کے دارالحکومت دہلی سے ملحق ریاست ہریانہ میں سندھ کی تہذیب کے کھدائی کے مقام راکھی گڑھی کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عالمگیر پور، مسعود پور، لوہاری راگھو اور کچھ دوسرے مقامات سے ملنے والے مٹی کے برتنوں کو بھی اکٹھا کیا گیا ہے۔

ان برتنوں سے نمونے لیے گئے اور سائنسی طریقے سے تجزیہ کرنے سے پتا چلا کہ ان میں مویشیوں کا گوشت پکایا اور کھایا جاتا تھا۔

تحقیق کے نتائج

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان برتنوں میں دودھ کی مصنوعات، جگالی کرنے والے جانوروں کے گوشت اور ساگ سبزیاں پکائی جاتی تھیں۔

وادی سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے مابین اس معاملے میں کوئی فرق نہیں تھا۔ مٹی کے برتنوں کا استعمال ان کے علاوہ کچھ دوسرے مقاصد کے لیے بھی کیا جاتا تھا۔

اس زمانے میں اس علاقے میں جگالی کرنے والے بہت سے جانور تھے تاہم ان برتنوں میں دودھ کی مصنوعات کا براہ راست بہت کم استعمال پایا گيا ہے۔

گجرات میں اس سے قبل کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات کہی گئی تھی کہ بہت سے مٹی کے برتنوں میں بنیادی طور پر صرف دودھ کی مصنوعات ہی پکائی جاتی تھیں۔ یہ تحقیق ‘سائنٹفک رپورٹس’ میں شائع ہوئی تھی۔

آثار قدیمہ میں پی ایچ ڈی کرنے والے اور پوسٹ ڈاک فیلو اے سوریہ کمار کا کہنا ہے تحقیق کے اگلے مرحلے میں وہ اس بات کو جاننے کی کوشش کریں گے کہ تہذیبی اور موسمی تبدیلی کے سبب ان کے زندگی گزارنے کے طریقوں میں کس قسم کی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مٹی کے برتنوں کی باقیات ان کی تحقیق میں اہم کردار ادا کریں گی۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنوبی ایشیائی شہروں میں آثار قدیمہ کے مقامات سے ملنے والے مٹی کے برتنوں کا تجزیہ کرکے ہم ماقبل تاریخ کے عہد میں جنوبی ایشیا میں کھانے پینے کے تنوع کو سمجھنے کے قابل ہوں گے۔

اے سوریہ ناراین نے اپنی تحقیق میں سندھ کی تہذیب کے بارے میں کچھ معلومات شامل کی ہیں۔ ماقبل تاریخ والے دور میں وادی سندھ کی تہذیب جغرافیائی طور پر جدید پاکستان، شمال مغربی انڈیا، جنوبی انڈیا اور افغانستان کے علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی۔

وادی سندھ کی تہذیب میدانی، پہاڑی، دریاؤں کی وادیوں، صحراؤں اور سمندری ساحلی علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ ان میں پانچ اہم شہر اور متعدد چھوٹی آبادیاں شامل تھیں اور ان کے پھلنے پھولنے کا زمانہ 2600 قبل مسیح سے 1900 قبل مسیح کے درمیان بتایا جاتا ہے۔

گلے کے ہار، چوڑیا، وزن ماپنے کے ٹکڑے (باٹ) وادی سندھ کی تہذیب کی خصوصیات میں شامل ہیں۔ لین دین میں سامان کے تبادلے کا وسیع پیمانے پر عمل دخل تھا۔

یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وادی سندھ کی تہذیب میں دیہاتوں پر شہروں کا غلبہ تھا۔ دونوں کا رشتہ بنیادی طور پر معاشی لین دین پر مبنی تھا۔

سنہ 2100 قبل مسیح کے بعد وادی سندھ کی تہذیب کے مغربی علاقے رفتہ رفتہ خالی ہوتے گئے اور مشرقی علاقوں کا فروغ ہوا۔

اس دور میں وادی سندھ کی تہذیب میں شہر کم ہو گئے اور گاؤں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔

اس کی بہت ساری وجوہات بتائی جاتی ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ خراب مانسون کہا جاتا ہے۔ یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ 2150 قبل مسیح کے بعد صدیوں تک ایسے ہی حالات رہے یہاں تک اب صرف اس کے باقیات ہی ملتے ہیں۔