پی ڈی ایم کے لاہور میں منعقدہ جلسے کا تفصیلی احوال: ’جنوری کے آخر یا فروری کے اوائل میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہو گا، استعفے ساتھ لے کر جائیں گے‘

Vehicle Tracking Solution

پی ڈی ایم کے لاہور میں منعقدہ جلسے کا تفصیلی احوال: ’جنوری کے آخر یا فروری کے اوائل میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہو گا، استعفے ساتھ لے کر جائیں گے‘

December 13, 2020 International News 0

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے اتوار

کو لاہور جلسے میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔

’جنوری کے آخر میں یا فروری کے اوائل میں اسلام آباد کی طرف پوری قوم مارچ کرے گی اور پارلیمنٹ کے استعفے ہم اپنے ساتھ لے کر جائیں گے، ہم ایسی پارلیمنٹ پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی اس پارلیمنٹ کے ذریعے سے ناجائز حکومت کو چلنے دیں گے، اس کا خاتمہ کر کے دم لیں گے اور ووٹ کا مقدس امانت عوام کو واپس دلا کر دم لیں گے۔‘

یہ وہ اعلان تھا جو پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے لاہور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ناجائز حکومت کے لیے سٹیبلشمنٹ نے جو دھاندلی کی گئی تھی، اب اس کے زخم اب گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

’عوام کو رستہ دیں ورنہ یہ سٹیبلشمنٹ بمقابلہ عوام بھی ہو سکتا ہے‘

مولانا فضل الرحمان نے متنبہ کیا کہ ’اب کہیں وہ دن نہ دیکھنے پڑیں کہ جہاں سٹیبلشمنٹ بمقابلہ پاکستان کے عوام نہ ہوں۔‘

انھوں نے کہا میں آج اپنی دفاعی قوت اور سٹیبلشمنٹ کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ عوام کو راستہ دیں، عوام کو اسلام آباد پہنچنے دیں۔ حکومت عوام کی ہو گی، دھاندلی کا نظام نہیں چلے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اب کوئی اور رستہ نہیں، ڈائیلاگ شائیلاگ کا وقت گزر چکا اب لانگ مارچ ہو گا، اسلام آباد ہم آ رہے ہیں۔ بلاول بھٹوں نے کہا اب فون کرنا چھوڑ دو، اب ہم اسلام آباد پہنچ کر نالائق اور جعلی حکمران کا استعفی چھینیں گے۔

’ہم کٹھ پتلی کو للکار رہے ہیں، ہم اس کے سہولت کاروں کو للکا رہے ہیں۔ تا کہ ہم عوام کو ان کا حق اقتدار دلا سکیں۔‘

میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ کٹھ پتلی حکمران یہ سیلیکٹڈ حکمران گھر جانے والا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا کے خطرے کے باوجود کارکن لاہور جلسے میں کیوں جانا چاہتے ہیں؟

31 دسمبر تک تمام پارٹیوں کے اراکین اپنے استعفے قیادت کو جمع کروا دیں گے: اپوزیشن کا فیصلہ

مینار پاکستان کے گراؤنڈ میں پی ڈی ایم کے جلسے کی تیاریاں عروج پر

حزب اختلاف کے سربراہی اجلاس میں کیا فیصلے ہوئے؟

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں اپوزیشن جماعتوں کے سربراہی اجلاس میں ہونے والے اہم فیصلوں کا اعلان بھی کیا۔

انھوں نے کہا کہ آج یہ طے کیا گیا ہے کہ: پارلیمنٹ کی خود مختاری ہو گی، پارلیمنٹ کو یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔ سیاست سے سٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کے کردار کا خاتمہ کیا جائے گا اور ایک آزاد عدلہ کی تصور دیا جائے گا۔

آزادانہ انتخاب کا انعقاد کرایا جائے گا۔ صوبوں کے حقوق اور اٹھارویں ترمیم کا تحفظ کیا جائے گا۔

’کون سی پارلیمنٹ، وہی جو آئی ایس آئی کا ایک ریٹائرڈ کرنل چلا رہا ہے‘

لاہور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے شرکا سے پوچھا کہ اگر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنا پڑے تو نکلو گے اسلام آباد کی طرف، اور جتنے دن رکنا پڑے، اپنی بہن کے ساتھ رکو گے۔

مریم نواز نے کہا کہ اب عمران خان کہتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار ہے۔

اس کے بعد مریم نواز نے کہا ’کون سی پارلیمنٹ؟

وہی جو آئی ایس آئی کا ایک ریٹائرڈ کرنل چلا رہا ہے، کیا وہاں بیٹھ کر بات ہو گی۔

وہ والی سینیٹ جس کو آج ایک ریٹائرڈ کرنل چلاتا ہے اس میں بیٹھ کر بات کرنی ہے؟ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ اس ریٹائرڈ کرنل کا نام پورا اسلام آباد جانتا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کا یہاں 2011 کا جلسہ آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا نے کروایا تھا۔ مریم نواز نے کہا کہ جس تبدیلی کی بنیاد 2011 میں اس مینار پاکستان کے نیچے رکھی گئی تھی آج لاہوریوں نے اس جعلی تبدیلی کو یہیں پر دفن کر دیا ہے۔

انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اب تمھیں جانا ہو گا۔‘

سابق وزیر اعظم نواز شریف: ’چند جرنیل وار گیم کے بجائے پولیٹیکل گیم میں مصروف ہیں‘

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اس جلسے سے ویڈیو لنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کو بدلے بغیر اب کوئی چارہ نہیں، یہ ملک مزید غیر جمہوری مداخلت کی تاب نہیں لا سکتا۔ اور جو دخل اندازی کرتے ہیں، میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ ملک اس کامتحمل نہیں ہو سکتا ہے، یہ ملک اب جام ہو چکا ہے۔ اب یہاں ہائی جیک جمہوریت نہیں چل سکتی۔‘

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہمیں ایسا ملک چائیے جس میں ریاست کے اوپر ریاست نہ ہو۔

نواز شریف نے کہا کہ کیا ہم انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد چند جرنیلوں کے غلام بن جائیں۔ کیا اس قسم کی غلامی آپ کو قبول ہے؟

اس کے بعد سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ایک آزادی 1947 میں ہم نے حاصل کی تھی اور ایک آزادی آج حاصل کرنے کا دن آ چکا ہے۔

اب یہ ڈرامہ اپنے منطقی انجام پہنچنا چائیے۔

نواز شریف نے کہا ہمارے ارکان اسمبلی نے خود اپنے استعفے ہمیں دینا شروع کر دیے ہیں اور منفی ہتکھنڈوں کے بھرمار کے باوجود چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور کوئی کمزوری نہیں دکھا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ان استعفوں سے متعلق جب بھی پی ڈی ایم اور مولانا فضل الرحمان ہدایت دیں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔

’انجنئیرنگ کی فیکٹریاں بند کرو، فوج کو متنازعہ نہ بناؤ‘

سابق وزیر اعظم نواز نے ملک کو درپیش بحرانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا اس سارے معاملے کا کیا صرف عمران خان اکیلے ذمہ دار ہے؟

نواز شریف نے کہا کہ ملک کو برباد کر دیا، 22 کروڑ عوام کو برباد کر دیا، معیشت کو تباہ کر دیا اور کہا جاتا ہے کہ نام نہ لیں۔

آئین کو آپ توڑیں تو کیا میں واپڈا کا نام لوں۔ وزیر اعظم ہاؤس کی دیواریں پھلانگ کے وزیر اعظم کو گرفتار کریں تو کیا نام محکمہ زراعت کا لوں۔

جسٹس صدیقی سے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف فیصلوں کے لیے دباؤ ڈالو تو میں کیا اس کی شکایت جنگلات کو لگاؤں۔ انتخابات چرائے گئے اور آر ٹی ایس بٹھا دیا گیا تو کیا میں اس کی شکایت محکمہ صحت کو لگاؤں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ چند شر پسند جرنیل یہ سب کر رہے ہیں۔ انھیں اگر یہ بات پسند نہیں ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔

نواز شریف کا بیانیہ وہی ہے جو آئینکا بیانیہ ہے جو فوج کے حلف کا بیانیہ ہے، وہی جو قائد اعظم کا بیانیہ ہے، یہی میرا بیانیہ ہے۔

آئین کی تابعداری کرو، اپنے حلف کی پاسداری کرو، سیاست سے دور رہو، اپنے ادارے کو سیاسی مقاصد کے لیے مت استعمال کرو، انجنئیرنگ کی فیکٹریاں بند کرو، انتخابات چوری مت کرو، ووٹ کو عزت دو، فوج کو متنازعہ مت کرو۔

جب آپ آئین توڑتے ہیں، جب حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جب دس دس سال حکومت کرتے ہیں۔ جب آپ سیاستدانوں کو جیل میں ڈالنے کے لیے مصروف ہو جاتے ہیں۔ وار گیم کھیلنے کے بجائے پولیٹیکل گیم کھیلنے لگ جاتے ہیں تو پھر بجا طور پر عوام کو شکایت ہو گی، پھر سوالات ہوں گے، سوالات پوچھے جائیں گے، اس کا جواب یہ نہیں ہے کہ نام کیوں لیتے ہو۔

جب ایک جرنیل ایک جج کے گھر جاتا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو نہیں چھوڑنا، اور جب یہ بات منظر عام پر آتی ہے تو اس جرنیل کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے۔ اس کو تو الٹا ترقی دے دی جاتی ہے۔

حزب اختلاف کے دیگر رہنماؤں کی تقاریر

بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن جلسوں کو حکمران جلسیوں کا نام دیتے تھے میں بھی ان کو جلسے نہیں کہتا، ان کو میں ان غیر جمہوری قوتوں کا، آمروں کی پیداواروں کو، ان قوتوں نے آئین کو گھر کی لونڈی سمجھا ہوا ہے، جنھوں نے 70 سال سے زائد زنجیروں کے زور پر حکمرانی کی ہے، میں ان جلسوں کو ان کی جنازہ نماز سمجھتا ہوں۔

ان کے مطابق میرے الفاظ کو نہ گلہ سمجھیں اور نہ شکوہ سمجھیں۔ ان کے مطابق جو 70 برس سے بلوچستان کے لوگوں نے سہا ہے میں ان کے بارے میں آپ سے بات کرونگا۔ ان کے مطابق اس عرصے میں ہم نے بہت کچھ کھویا اور ایک دن بھی سکون کا نہیں دیکھا۔

ان کے مطابق یہ شورش کس نے شروع کر رکھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’آج جس خلائی مخلوق کے خلاف آپ اس پنڈال میں کھڑے ہیں، ہم 70 سالوں سے ان کی دہشت کا اور ان کی وہشت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘

ان کے ان غیر اخلاقی فیصلوں کا ذمہ دار کون ہے؟

70 سالوں سے جو ظلم و زیادتی ہو رہی ہے۔ اس کا ذمہ دار ان کو نہیں بلکہ اس بڑے صوبے کو قرار دیا ہے جو آج اس پنڈال میں موجود ہے۔ انھوں نے کہا اس جن کو قابو کرنا اب آپ کی ذمہ داری بنتی ہے۔

انھوں نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ملک کو بچانا چاہتے ہیں تو پھر اس خلائی مخلوق کو دھکہ دیں اور اس کی حیثیت دکھا دیں۔ انھیں یہ ثابت کرائیں کہ یہ ملک اس ملک کی عوام کے لیے بنا ہے۔

اختر مینگل کے مطابق اگر آپ اس ملک کو دوسرا بنگلہ دیش نہیں بنانا چاہتے تو پھر اس خلائی مخلوق کو لگام دینا آپ کی ذمہ داری بنتی ہے۔

انھوں نے کہا آج ہماری ماؤں بہنوں کی عزتوں محفوظ نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ہم آج بھی جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہیں اور اس آئین کے تحفظ کے لیے نکلے ہیں، لیکن ہماری عزتیں بچانے کے لیے کوئی نہیں نکلا۔ ہماری مائیں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں مگر ان کے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔

اختر مینگل کے مطابق مریم نواز خود بتائیں گی کہ کس طرح بچیوں اور بہنوں نے بلوچستان میں رو رو کر اپنے پیاروں کی بازیابی کی درخواست کی۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی یہ ایک اسلامی ریاست ہے۔ کیا یہ ایک جمہوری ملک ہے؟ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ اختر مینگل نے لاہور جلسے کے شرکا سے کہا کہ آپ کو انگریزوں کی غلامی سے نکال کر ان وردی والوں کی غلامی میں دھکیل دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کوئی ایک ملک ایسا بتائیں جہاں وزیر اعظم کو پھانسی کے گھاٹ اتار دیا گیا ہو، جہاں بڑے عوامی مینڈیٹ والے وزیر اعظم کو ملک سے باہر نکال دیا گیا ہو۔

اگر جمہوریت ہوتی تو پھر جنرلز ہم پر براہ راست ہم پر حکمرانی نہ کرتے۔ اور تو اور کاروبار بھی اپنے ہاتھ میں رکھ لیا ہے۔ ڈی ایچ اے بنے ہوئے ہیں، فوجی فاؤنڈیشن بنی ہوئی ہے، ایف ڈبلیو بنا ہوا ہے۔

ان کے مطابق جس طرح ڈی ایچ اے پھیل رہا ہے مجھے ڈر ہے کہ آئندہ کچھ سالوں میں یہاں لاہور میں قبرستان کی بھی جگہ نہیں بچے گی۔

ان کے مطابق جو آسٹریلیا میں جزیرے خریدتے ہیں، جو دبئی میں بیٹھے ہیں اور جو اپنے آپ کو شیر کہتے تھے اور اپنے شہروں کو ڈالروں کے عوض بیچا اور جو پیزے بیچتے ہیں ان کا بھی احتساب ہونا چائیے۔

انھوں نے کہا کہ جس طرح ڈی ایچ اے نے لوگوں کی زمینیں ہڑپ کی ہیں ان کا بھی احتساب ہونا چائیے۔

اختر مینگل کے مطابق گوادر کو باڑیں لگا کر وہاں کے لوگوں کو ایسٹ اور ویسٹ جرمنی کی طرز پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔،ویڈیو کیپشن

پی ڈی ایم کے لاہور جلسے کی تیاریاں

اگرچہ حکومتی ترجمان اس جلسے کو شروع ہونے سے قبل ہی ایک ناکام جلسہ قرار دیتے ہیں مگر پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شرکا سے کہا کہ آپ نے کثیر تعداد میں یہاں جمع ہو کر جلسے کو کامیاب بنایا ہے۔

جلسے سے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں ایک قرارداد پیش کرتے ہوئے شرکا سے چند سوالات پوچھے جن میں سے کچھ یہ سوالات بھی ہیں کہ کیا موجودہ حکومت کا خاتمہ آپ کو منظور ہے؟ کیا از سر نو انتخابات منظور ہیں؟

انھوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کا بھی مطالبہ کیا۔

اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ‘ابھی جلسہ شروع نہیں ہوا ہے اور ٹی وی پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا بیان چل رہا ہے کہ جلسہ ناکام ہو گیا ہے۔ پتا نہیں کس قسم کا شخص یہاں بٹھایا ہوا ہے جو نہ سن سکتا ہے اور نہ دیکھ سکتا ہے۔’

قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد شیرپاؤ نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومتی ادارے ناکام ہو چکے ہیں اور اس وقت ملک میں مہنگائی عروج پر ہے۔

اجازت نہ ملنے کے باوجود لاہور میں جلسے کا انعقاد کیا گیا

بات کی جائے آج کے جلسے کی تو مختلف شہروں سے ان جماعتوں کے کارکنان لاہور کے اقبال پارک میں جمع ہوئے ہیں۔

اس جلسے کا انعقاد مینارِ پاکستان پر کیا جا رہا ہے جہاں اب سے تقریباً 81 برس قبل پاکستان کے قیام کی قرارداد منظور کی گئی تھی۔

پنجاب اور وفاق میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومتوں نے اس جلسے کو روکنے کے لیے کورونا کے پھیلاؤ اور دہشتگردی کے خطرے سمیت کئی طریقوں سے خبردار کیا ہے لیکن حزبِ اختلاف نے یہ جلسہ ملتوی کرنے سے انکار کیا ہے۔

گذشتہ روز لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ پی ڈی ایم کے رہنماؤں مریم نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمان سمیت خواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق، رانا ثنااللہ اور دیگر کی زندگی کو خطرہ ہے۔

اس کے علاوہ نوٹیفیکشن میں کہا گیا کہ کورونا وائرس کے دوران عوامی صحت اور تحفظ کو مدِنظر رکھتے ہوئے کسی جلسے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ایسا کوئی بھی جلسہ غیر قانونی ہوگا۔

پی ڈی ایم

لاہور میں کیا سماں رہا؟

حکومت کی جانب سے کہا تو جا رہا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا، تاہم بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق اس جلسے کے سلسلے میں شہر بھر میں کہیں بھی کسی قسم کی رکاوٹیں نہیں لگائی گئیں۔

تاہم پولیس اور سکیورٹی فورسز کی کثیر تعداد لاہور شہر میں جگہ جگہ تعینات کی گئی۔

جلسے کے اختتام پر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جلسے کی ایک ایسی تصویر شیئر کی گئی جس میں شرکا کی تعداد کم نظر آرہی ہے۔

اس تصویر میں جلسے کے شرکا فاصلے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔

اس تصویر پر وزیر اعلیٰ نے لکھا کہ وہ جلسے کے شرکا کے شکریہ ادا کرتے ہیں، جنھوں نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سماجی فاصلے جیسی احتیاطی تدابیر کا خیال رکھا۔