پی ڈی ایم کا لانگ مارچ کا اعلان: کیا اپوزیشن جماعتوں کی دھرنے اور احتجاج کی سیاست اپنے مقاصد حاصل کر سکے گی؟

Vehicle Tracking Solution

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ کا اعلان: کیا اپوزیشن جماعتوں کی دھرنے اور احتجاج کی سیاست اپنے مقاصد حاصل کر سکے گی؟

December 14, 2020 National News 0

پاکستان کی سیاست میں احتجاجی دھرنے، مظاہرے اور لانگ مارچ نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں اسی نوعیت کی سیاسی احتجاجی تحاریک میں سیاستدان اور مذہبی رہنما مختلف برسراقتدار حکومتوں کے خلاف متحد ہوتے رہے ہیں، ان میں سے چند ایک کو کسی حد تک کامیابی ملی جبکہ دیگر رہنما اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

پاکستان میں حزبِ اختلاف کے سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے گذشتہ روز لاہور میں ہونے والے جلسے میں جنوری کے آخر یا فروری کے اوائل میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم ایسی پارلیمنٹ پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی اس پارلیمنٹ کے ذریعے سے ناجائز حکومت کو چلنے دیں گے۔‘

یہاں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاسی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ حالیہ اعلان کردہ مارچ کامیاب ہو پائے گا اور کیا اپوزیشن اتحاد اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر پائے گا؟

سیاسی ماہرین کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مختلف حکومتوں کے خلاف احتجاجی لانگ مارچ کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے زیادہ تر دھمکی کے طور پر استعمال کیا۔ پاکستانی سیاست میں لانگ مارچ اور دھرنے اہمیت تو رکھتے ہیں، لیکن اکثر حکومتیں ان سے زیادہ پریشان نہیں ہوتیں۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ماضی پر نظر دوڑائیں تو کوئی رہنما لانگ مارچ کر کے یا دھرنا دے کر حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

’لیکن حالات کو خراب کرنے، حکومتی رٹ کمزور کرنے اور اپوزیشن کے مطالبات میں جان ڈالنے میں ان تحریکوں کا کردار رہا ہے۔ ان مارچوں کے نتیجہ میں فوری طور پر نہ سہی لیکن کچھ عرصے کے لیے ملکی سیاست کا رُخ بدلا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

استعفوں کی سیاست کس کے لیے فائدہ مند اور کسے نقصان پہنچائے گی؟

نواز شریف: سیاسی انجنیئرنگ کی فیکٹریاں بند کرو، فوج کو متنازع نہ بناؤ

حکومت پی ڈی ایم سے مذاکرات کے موقف میں لچک کا مظاہرہ کر رہی ہے؟

موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا ایک جلسہ نہیں بلکہ کئی جلسے ہو چکے ہیں۔ اس میں شامل جماعتیں اپنے اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔ یہ اتحاد نہ صرف اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے، استعفے دینے کا اعلان کر رہا ہے بلکہ حکومت سے استعفوں کا مطالبہ بھی۔‘

اپوزیشن کے مقرر کردہ ہدف کا حصول آسان نہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم حکومت پر کتنا دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو گی اور یہ کیسے ممکن ہو گا یہ آنے والا وقت بتائے گا، کیونکہ بظاہر اس کا کوئی قانونی و آئینی جواز نظر نہیں آتا لیکن سیاست جب سڑکوں پر آتی ہے تو آئین اور قانون کے سہارے نہیں چلتی اور یہ وقت بتائے گا کہ کیا اپوزیشن جماعتیں مل کر سیاست کو اپنے طریقے سے چلانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اپوزیشن یہ چاہتی ہے کہ ایک ڈیڈ لاک پیدا کیا جائے اور حکومت مفلوج ہو کر رہ جائے لیکن یہاں یہ امر دلچسپ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپوزیشن کا ہدف صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اسٹیبلیشمنٹ بھی ہے، ایسے میں اکیلی اپوزیشن دو بڑی قوتوں سے کیسے نمٹے گی اور انھیں کیسے شکست دے گی، ملکی تاریخ میں آج تک تو ایسا ہوا نہیں ہے۔‘

انھوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر اپوزیشن نے اپنے لیے جو ہدف رکھا ہے وہ بہت مشکل دکھائی دیتا ہے اور اس کا حصول آسان نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج تک پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جھگڑا حد سے بڑھا ہے تو فوج نے مداخلت کی ہے اور دونوں فریقین کو الگ الگ کر کے فوج کو اپنی حکومت قائم کرنے کا موقع ملا ہے۔

شامی کے مطابق کیا اس بار بھی معاملات اس انجام تک جائیں گے یا مختلف صورت حال ہو گی اس بارے میں حتمی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہو گا۔

پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کی صورت میں حکومت پر کتنا دباؤ ہو گا اور وہ طاقت کا استعمال کرے گی یا مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی جائے گی؟ اس سوال پر مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ نا طاقت کا راستہ اپنایا جائے اور نہ مذاکرات کیے جائے اور صورتحال کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ ’حکومت کی یہ کوشش ہو گی کہ اگر پی ڈی ایم لانگ مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوتی ہے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑا جائے، اگر مظاہرین پرامن رہے تو معاملہ مختلف ہو گا لیکن اگر امن و امان میں بگاڑ کی صورت بنی تو معاملات مختلف ہوں گے۔‘

’لانگ مارچ اور استعفے اپوزیشن کا آخری حربہ‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف سنہ 1990 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے نومبر 1992 کو ایک لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

اس لانگ مارچ میں مظاہرین کو راولپنڈی لیاقت باغ سے پارلیمنٹ پہنچنا تھا۔ جڑواں شہروں میں سخت حفاظتی اقدامات کا نفاذ کیا گیا تھا مگر بے نظیر بھٹو تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے لیاقت باغ پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں تھیں۔ بعدازاں بے نظیر بھٹو سمیت کئی مرکزی رہنماوں گرفتار کر کے اسلام آباد سے واپس بھیج دیا گیا تھا۔

‘ظالمو قاضی آ رہا ہے’

جماعت اسلامی کو ملکی سیاست میں سٹریٹ پاور کا مظاہرہ کرنے کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنا پہلا لانگ مارچ ستمبر 1996 میں قاضی حسین احمد ک قیادت میں کیا تھا۔ جس کا مقصد اس وقت کی وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ تھا۔

اس مارچ میں جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر قاضی حسین احمد کا اس مارچ کے بارے میں ایک سیاسی نعرہ ’ظالمو قاضی آ رہا ہے‘ بہت زبان زد عام ہوا تھا۔

اسلام آباد پولیس نے اس لانگ مارچ کے شرکا کو تین روز تک آبپارہ کے قریب روکے رکھا تھا اور یہ وہ پہلا موقع تھا جب مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم ہوا تھا۔

اس لانگ مارچ کے ایک ماہ بعد اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دی تھی۔

عدلیہ بحالی کے لیے وکلا کا لانگ مارچ

مارچ 2007 کو اس وقت کے فوجی آمر اور صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عہدے سے ہٹائے جانے پر وکلا نے عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک کا آغاز کیا اور ملک بھر میں احتجاج شروع ہوئے۔

وکلا نے جون 2008 میں پہلا لانگ مارچ کیا جو باآسانی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکا۔

تاہم عدلیہ بحالی کی تحریک ختم نہ ہوئی اور مارچ 2009 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ایک بار پھر وکلا لانگ مارچ کے سلسلہ کا آغاز ہوا اور اس میں وکلا تنظیمیں، ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، جماعت اسلامی شامل تھیں۔

مسلم لیگ ن کے بانی نواز شریف کی قیادت میں یہ مارچ ابھی لاہور سے گوجرانوالہ کے قریب ہی پہنچا تھا تو اس وقت کے وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے ٹیلی ویژن پربراہ راست قوم سے خطاب میں تمام معزول جججوں کی بحالی کا اعلان کر دیا تھا۔

طاہرالقادری کا مارچ

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے سنہ 2013 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں انتخابی اصلاحات کے لیے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا۔

جنوری کے وسط میں لانگ مارچ کے شرکا اسلام آباد پہنچےاور تین دن سخت سردی میں دھرنا دینے کے بعد حکومتی ارکان سے مذاکرات کےنتیجے میں ایک معاہدے پر اتفاق کے بعد واپس چلے گئے۔

اگست 2014 میں طاہر القادری نے ماڈل ٹاؤن سانحہ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مل کر اسلام آباد کی طرف ایک مرتبہ پھر مارچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف نے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ اور دھرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

طاہر القادری نے تقریباً 68 دن وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں دھرنا جاری رکھا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کا دھرنا

پاکستان تحریک انصاف نے سنہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی اور قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہ کرائے جانے کے خلاف اگست 2014 کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا تھا۔ یہ دھرنا 126 دن تک اسلام آباد کے ریڈ زون میں جاری رہا۔

علامہ خادم رضوی کا دھرنا

نومبر 2017 میں مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں انتخابی فارم میں تبدیلی کے خلاف اور توہین مذہب کا نعرہ لگا کر مذہبی جماعت تحریک لبیک نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا اور راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والے فیض آباد چوک پر دھرنا 22 دن تک دیا تھا۔

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ

سال 2018 کے انتخابات میں دھاندلی، ملک میں مہنگائی سمیت کئی اہم معاملات کو بنیاد بنا کر سیاسی و مذہبی جماعت جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گذشتہ برس پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیا تھا۔اس مارچ کو مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس مارچ کو ’آزادی مارچ‘ کا نام دیا تھا اور انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس دھرنے کا مقام وفاقی دارلحکومت کی مرکزی شاہراہ سری نگر ہائی وے پر موجود پشاور موڑ تھا۔