کورونا وائرس: جیلوں سے گنجائش سے 134 فیصد زیادہ قیدی، ’گھٹن سے نا مرا تو کورونا سے ضرور مر جاؤں گا‘

Vehicle Tracking Solution

کورونا وائرس: جیلوں سے گنجائش سے 134 فیصد زیادہ قیدی، ’گھٹن سے نا مرا تو کورونا سے ضرور مر جاؤں گا‘

December 14, 2020 National News 0

’مجھے جنوری میں اڈیالہ جیل لایا گیا اور پھر دو ماہ بعد کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد قیدیوں کی رشتہ داروں سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہاں احتیاطی تدابیر کے طور پر صرف پیناڈال موجود تھی۔۔۔ مجھے لگا اگر میں جیل کے اندر گھٹن سے نہیں مرا تو کورونا سے ضرور مر جاؤں گا۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اڈیالہ جیل میں موجود ایک قیدی نے اپنی کہانی کچھ یوں سنائی ہے۔

’یہاں ایک بیرک میں صرف 36 لوگوں کی گنجائش ہے لیکن یہاں بیک وقت میں 100 سے زیادہ قیدی موجود ہوتے ہیں۔ عام دنوں میں یہاں جگہ نہیں مل پاتی اور ایک دوسرے کے نزدیک ہو کر سونا پڑتا ہے۔ کورونا کے دوران سماجی دوری کرنا تو دور کی بات میں دیوار کے ساتھ لگ کر سو جاتا تھا کیونکہ بیرک میں قیدیوں کو لگاتار لایا جا رہا تھا جبکہ گنجائش بالکل بھی نہیں تھی۔ پھر میں نے گھر والوں سے پیسے منگوائے تاکہ رشوت دے کر کم از کم اپنے سونے کے لیے جگہ تو حاصل کر سکوں۔‘

اڈیالہ جیل کے اس قیدی کا شمار ان لگ بھگ پانچ ہزار قیدیوں میں ہوتا ہے جو کسی نہ کسی سزا کے تحت پابند سلاسل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کوٹ لکھپت کا قیدی نمبر 4470

پاکستان میں 80 ہزار قیدیوں میں کسے رہا کیا جا سکتا ہے اور کیسے؟

جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مسجد کو کورونا سے پاک بنانے کی کوشش

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع ہونے والی جوڈیشل برانچ کی ’انڈر ٹرائل قیدیوں‘ پر رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں 2174 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے لیکن اس وقت وہاں 5001 قیدی موجود ہیں۔

ملک میں کورونا کی پہلی لہر سامنے آنے کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ یہ وبا جیل میں موجود قیدیوں میں زیادہ تیزی سے پھیل سکتی ہے اور انھیں خدشات کو مدِنظر رکھتے ہوئے بہت سے اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا۔

ان اقدامات پر کتنا عمل ہوا اس کی تفصیل پیر (آج) کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) کی مشترکہ رپورٹ بعنوان ’پرزنرز آف دی پینڈیمک‘ کے مطابق رواں برس اگست تک ملک کی مختلف جیلوں میں موجود 2313 قیدیوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے مگر اس کے باوجود جیلوں کو قیدیوں سے بھرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

لیکن اس بارے میں اب کیوں بات کی جا رہی ہے؟

وجہ یہ ہے کہ وبا کے دوران پاکستانی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جبکہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شدت اختیار کر رہی ہے اور ملک میں متاثرین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر اس عمل کو نہ روکا گیا تو ان جیلوں سے نکلنے والی وبا ملک کے بیشتر حصوں میں پھیل سکتی ہے۔

دوسری وجہ پاکستان میں جیلوں کی بری حالت سے جڑی ہے۔ جے پی پی اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی جیلوں میں صفائی کی ناقص حالت، گنجائش سے زیادہ قیدی اور بیماریوں سے نمٹنے کی ناکافی سہولیات ہیں۔

وفاقی محتسب کے مطابق اس وقت ملک بھر کی جیلوں میں 77 ہزار قیدی موجود ہیں اور یہ تعداد جیلوں میں قیدیوں کی موجودہ گنجائش سے 134 فیصد زیادہ ہے۔

اگست سے ستمبر تک جے پی پی اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے گیارہ جیلوں کا دورہ کیا جن میں لاہور، سیالکوٹ، حیدرآباد، پشاور، راولپنڈی اور کراچی کی جیلیں شامل ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان جیلوں کے دوروں کے دوران نا تو ان تنظیموں کے نمائندوں کو قرنطینہ مراکز لے جایا گیا اور نا ہی قیدیوں سے بات کرنے کی اجازت دی گئی۔

رپورٹ میں بیشتر جیلوں میں کورونا کی وبا کو روکنے کے لیے کیے گئے ناقص انتظامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جبکہ بی بی سی سے بات کرنے والے قیدیوں اور ان سے ملنے کے لیے آئے لواحقین نے بتایا کہ اس سلسلے میں انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ملک بھر کی سینٹرل اور ڈسٹرکٹ جیلوں میں ہسپتال موجود ہیں لیکن یہاں سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ ان ہسپتالوں میں طبی عملے کی 800 آسامیاں خالی ہیں جن پر اب تک بھرتیاں نہیں کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں 45 ہزار قیدیوں کا علاج کرنے کے لیے صرف 42 لوگوں پر مشتمل طبی عملہ دستیاب ہے۔

اگر اڈیالہ جیل کا جائزہ لیں تو یہاں قیدیوں سے ملنے کے لیے ملاقاتی شیڈ تک پہنچنے میں کم و بیش 15 منٹ لگ جاتے ہیں۔ یہاں پر داخل ہونے کے لیے پرچی کے ذریعے دو باریوں میں لوگوں کو بھیجا جاتا ہے۔

پہلی باری میں صبح 9:30 سے 10 بجے تک اور پھر 11:30 سے دوپہر دو بجے تک 35 سے 40 افراد ملاقات کرتے ہیں۔

قیدی اور ملاقات کے لیے آنے والے اُن کے رشتہ دار کے درمیان ایک جالی لگی ہوتی ہے جبکہ دونوں اطراف سٹیل کے بینچ رکھے ہوئے ہیں۔

کووڈ سے پہلے قیدی اور ان کے اہلِخانہ پیسے رول کر کے جعلی کے دوسری طرف دے دیا کرتے تھے یا پھر جعلی کے ہی ذریعے انگلیاں جوڑ کر ہاتھ ملا لیا کرتے تھے۔ اب کووڈ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یہاں جالی کے اوپر ایک اور پتلی جالی کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے جیل میں دوست، رشتہ دار، کزن، تقریباً سب ہی قیدی سے ملنے آتے تھے لیکن کووڈ کے بعد سے صرف قریبی رشتہ داروں جیسا کہ والدین، میاں بیوی یا بہن بھائی کو آنے کی اجازت ہے۔

لاہور کے رہائشی طارق سراج حال ہی میں کوٹ لکھپت جیل میں اپنے بھائی سے ملاقات کر کے آئیں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’یہاں جالی کے اوپر پلاسٹک شیٹ لگا دی ہے۔ مجھے ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں میرا بھائی جیل میں ہی نہ مر جائے۔ میں تو مل کر واپس آ جاتا ہوں، نہا لیتا ہوں۔ وہ واپس وہیں چلا جاتا ہے۔ جنگ کے دوران بھی رعایت دی جاتی ہے۔ تو اب ایسا کیوں نہیں کیا جا رہا؟‘

طارق سراج کہتے ہیں کہ ’سزا بیشک پوری دیں لیکن سہولیات بھی تو دیں۔ یہاں تو ان کو جانوروں کی طرح رکھا ہوا ہے۔‘

جیل میں کووڈ ہونے پر لگا کہ قید دگنی ہوگئی

حالیہ دنوں میں کوٹ لکھپت سے رہائی پانے والے ایک قیدی نے بی بی سی کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کی وجہ سے انھیں جیل سے نکال کر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں دس دن کے لیے منتقل کیا گیا تھا۔

’پہلے یہ بحث ہوتی رہی کہ مجھے جیل میں رکھا جائے یا کسی ہسپتال میں داخل کیا جائے۔پھر جیل کے اندر قرنطینہ میں ہی 15 دن رکھا گیا۔ لیکن پھر جب میری حالت بہت بگڑ گئی اور یہ خطرہ بھی رہا کہ مجھ سے دیگر افراد میں کورونا پھیل جائے گا، تب مجھے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ جیل میں موجود دیگر سہولیات کی غیر موجودگی میں کووڈ سے خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ ’کووڈ کے دوران میں رشتہ داروں سے بھی نہیں مل پایا۔ایک تو پہلے سے میں قید میں تھا تو بیان نہیں کر سکتا کہ اس وقت کیا حالت تھی۔ دل یہی تھا کہ ایسی حالت میں ہونے سے بہتر ہے کہ میں مر جاؤں۔‘

قیدیوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ

پاکستانی جیلوں میں قیدی کئی ماہ یا سالوں سے اپنی پیشی کا انتظار کرتے ہیں۔ اس دیر کی وجہ عدالتوں میں پہلے سے جاری مقدمات کا التوا بتایا جاتا ہے۔ لیکن وبا کے دوران اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کا جیلوں میں رہنا خطرے کی علامت ہے۔

رپورٹ کے مطابق اقدامات کے طور پر اپریل سے جولائی تک جیلوں کے ملاقاتی حصوں کو بند کر دیا گیا، عدالتوں کی کارروائی محدود ہونے کی وجہ سے قیدیوں کی پیشیاں رُک گئیں۔ جبکہ ان تین ماہ کے دوران جیل میں قیدیوں کی تعداد 73 ہزار سے بڑھ کر 79 ہزار تک پہنچ گئی۔ جبکہ ان 79 ہزار میں سے انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد 53 ہزار ہے۔

بی بی سی سے بات کرنے والے قیدی نے بتایا کہ جیل میں کووڈ سے نمٹنے کے لیے حفاظتی تدابیر یا ایس او پیز نہ ہونے کے برابر تھے۔ ’ملاقاتی حصے میں اب جا کر اقدامات کیے گئے ہیں لیکن دوسری طرف یعنی جیل کے اندر وہی ماحول ہے۔ یعنی آپ ہینڈ سینیٹائزر لگا کر 100 لوگوں کے بیرک میں بغیر کسی سماجی دوری کے جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔حالات پہلے بھی برے تھے لیکن پہلے وبا نہیں تھی۔‘

دوسری جانب رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کووڈ کی وجہ سے ملزمان کی گرفتاری نہیں روکی جا سکتی اور نہ ہی کووڈ کے باعث ان کو چھوٹ دی جا سکتی ہے۔ لیکن جیلوں کے اندر بہتر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

رواں سال مارچ میں کووڈ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسلام آباد کے لاک اپ اور اڈیالہ سینٹرل جیل سے 230 قیدیوں کو نکالا گیا تھا۔ جبکہ اس دوران سندھ سے 519 قیدیوں کو رہا کر دیا گیا تھا جو کہ سپریم کورٹ کے مطابق خاصی بڑی تعداد ہے۔

لیکن اس کے بارے میں سپریم کورٹ نے نئے احکامات جاری کرتے ہوئے صرف محدود تعداد میں قیدیوں کی رہائی کا حکم نامہ جاری کیا، خاص طور سے ان قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا گیا جنھوں نے اپنی قید پوری کر لی ہے یا پھر ان کی قید ختم ہونے میں چھ ماہ یا کم کا عرصہ رہ گیا ہے۔

جیلوں کی انتظامیہ کے مطابق قیدیوں کی مسلسل آمد کے نتیجے میں جیل کے اندر سماجی دوری ممکن نہیں بنائی جا سکتی۔

پنجاب کے جیل خانہ جات کے انسپکٹر جنرل شاہد مرزا نے بی بی سی کو بتایا کہ اپریل سے جولائی تک پنجاب کی 43 جیلوں میں 53 ہزار قیدیوں کو کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔

’ہم جیلوں میں نافذ کیے گئے انتظامات سے کافی مطمئن ہیں۔ ہم نے عدالت کے احکامات پر پہلے ہی جیل میں دیگر افراد کی آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی تھی، اور اب پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر جیلوں میں ایس او پیز کی پابندی لازم بنائی جا رہی ہے۔ جہاں جیلوں میں اتنی بڑی آبادی ہے وہاں ان اقدامات کو بھی سراہنا چاہیے۔‘