اسرائیل سے تعلقات بحال ہونے کے بعد امریکہ نے سوڈان کا نام دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا

Vehicle Tracking Solution

اسرائیل سے تعلقات بحال ہونے کے بعد امریکہ نے سوڈان کا نام دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا

December 14, 2020 International News 0

سوڈان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے اور امن معاہدے کی منظوری کے بعد امریکہ نے باضابطہ طور پر سوڈان کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس اکتوبر میں کانگریس کو 45 دن کا آئینی نوٹس دیتے ہوئے یہ اقدام اٹھانے کا کہا تھا جو اس ڈیل کے تحت تھا جس کے مطابق سوڈان امریکہ میں دہشت گردی کے متاثرین کو 335 ملین ڈالر دے گا۔

اس معاوضے کا تعلق عسکریت پسند تنظیم القاعدہ کے 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملوں سے تھا جس میں 220 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے تھے جب القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن سوڈان میں مقیم تھے۔

اسی وقت سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی رضامندی ظاہر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

جنوبی سوڈان کے بعض علاقے قحط زدہ قرار

اسرائیل عرب ممالک کے قریب کیوں آنا چاہتا ہے؟

فوجی بغاوت کے بعد سوڈان کے صدر عمر البشیر زیر حراست

واضح رہے سوڈان رواں برس اکتوبر میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے چند ہفتوں بعد اس کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوا تھا۔

گذشتہ برس صدر عمر البشیر کے خلاف ملک گیر احتجاج کے نتیجہ میں معزولی کے بعد سے امریکہ اور سوڈان کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سوڈان کی معیشت تنزلی کا شکار ہے، افراط زر بڑھ رہا ہے اور ملک بھر میں غذائی بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں اور سوڈانی عوام ملک میں جمہوریت کی بحالی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔

سوڈان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد امریکہ کی جانب سے اسے دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے سے ملک میں معاشی استحکام کا دروازہ کھلنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

امریکہ نے سوڈان کو فہرست میں کب شامل کیا؟

یہ ایک پیچیدہ کہانی ہے جو 30 برس قبل سوڈان کی اسلام پسند حکومت کے ابتدائی دنوں کے بارے میں ہے۔

امریکہ نے سنہ 1993 میں سوڈان کو ‘دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست’ میں اس وقت شامل کیا تھا جب سنہ 1989 میں ایک فوجی بغاوت کے بعد اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد صدر بشیر نے ملک کو عسکریت پسندوں کے جہاد کے عالمی مرکز میں تبدیل کر دیا تھا۔

عالمی شدت پسند تنظیم القاعدہ اور دیگر انتہا پسند گروپوں نے سوڈان کو امریکہ، سعودی عرب، مصر، ایتھوپیا، یوگینڈا، کینیا اور دیگر مقامات پر دہشت گرد حملے کرنے کے اڈے کے طور پر استعمال کیا۔

سنہ 1993 میں نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردی کے پہلے حملے کے بعد امریکہ نے سوڈان کو ’دہشت گردوں کا ریاستی سرپرست‘ قرار دیا تھا۔

سی آئی اے سے تعاون

بین الاقوامی سطح پر لگنے والی معاشی و دیگر پابندیوں اور پڑوسی ممالک کے فوجی دباؤ نے سوڈان کو مجبور کیا کہ وہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن اور دیگر جہادیوں کو ملک بدر کر دے۔

عالمی دباؤ کے پیش نظر اور خصوصاً 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے فوراً بعد ہی سوڈان کی سکیورٹی سروسز امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کی ایک قابل قدر شراکت دار بن گئیں۔

اگرچہ اِس شراکت داری کی بنیاد پر سوڈان کو دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال دینا چاہیے تھا لیکن کانگریس کے ارکان نے سوڈان میں خانہ جنگی اور انسانی حقوق کی پامالیوں سمیت دیگر بہت سی وجوہات کی بنا پر سوڈان کو اس فہرست میں شامل رکھا۔

تاہم اس کے باوجود عمرالبشیر کی سربراہی میں سوڈانی حکومت نے مخفی انداز ایران اور حماس سے تعلقات قائم رکھے اور کم از کم دو موقعوں پر اسرائیل کے جنگی طیاروں نے سوڈان کے بحر احمر کے ساحل پر گاڑیوں کے دو ایسے قافلوں پر حملہ بھی کیا جو مبینہ طور پر حماس کو دیے جانے والے اسلحے سے لدی تھیں۔

سنہ 2016 میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دباؤ پر سوڈانی حکومت نے ایران سے اپنے تعلقات کا خاتمہ کر دیا۔

گذشتہ برس جمہوری انقلاب کے باوجود واشنگٹن ڈی سی کی سوڈان کے حوالے سے مثبت تبدیلی کی رفتار سست رہی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار اپنے ایک طاقتور ہتھیار کا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے اور وہ پریشان تھے کہ شاید نئی جمہوری حکومت زیادہ دن نہ چل سکے۔

سینیٹرز، جنھوںنے سوڈان کو دہشت گردی کی فہرست سے ہٹانے کی مخالفت کی

جب تک سوڈان بلیک لسٹ میں رہا اُس پر مالی پابندیاں بھی عائد رہیں۔ ان پابندیوں کے باعث سوڈان میں کاروبار بند، غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک مزید کوئی نیا پیکج بھی نہیں دے سکتے کیونکہ پرانے قرضے ادا نہیں ہو پا رہے ہیں۔

ملک میں خوفناک حد تک بھوک کا راج ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 96 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور یہ صورتحال کورونا وائرس اور ملک میں آنے والے سیلابوں کی وجہ سے مزید بگڑ گئی ہے۔

یہ ایسا بحران ہے جو کھانے کی فراہمی سے ختم نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے بڑے پیمانے پر معاشی معاونت کی ضرورت ہے۔

حالیہ مہینوں میں سوڈان کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا معاملہ آہستہ آہستہ کانگریس میں شروع ہوا تھا، جو مشرقی افریقہ اور یمن میں القاعدہ کے حملوں کے متاثرین کے لواحقین کی جانب سے معاوضے کے مطالبے کے بعد رُک گیا۔

سوڈان 335 ملین کا ایک پیکچ دینے پر آمادہ تھا لیکن ستمبر میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دو سینٹرز چک شمر اور باب میننڈیز نے اس اقدام کے آگے بند باندھ دیا اور اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ یہ سینیٹرز نائن الیون متاثرین کے لیے کچھ بہتر پیکج چاہتے تھے۔

ان حالات میں ٹرمپ انتظامیہ سوڈان کو ان سب مسائل سے نکلنے کا ایک راستہ سجھا رہی تھی۔

اگست کے آخر میں سوڈان کے دورے کے دوران امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ملک کے نئے وزیراعظم عبدالا ہمدوک کو ایک تجویز پیش کی تھی جس کے تحت اگر سوڈان اسرائیل کو تسلیم کر لے تو صدر ٹرمپ کانگریس کی اس رکاوٹ کو ختم کر دیں گے اور معاشی پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔

اس سے امریکہ کے انتخابات سے ہفتوں قبل اسرائیل کے ساتھ عرب تعلقات معمول پر لانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی انتخابی مہم کو بڑا فائدہ حاصل ہونا تھا۔

جرنیلوں کے لیے ایک اچھا معاہدہ

اسرائیل کو تسلیم کرنا سوڈان کے لیے ایک اہم اقدام ہے مگر اس اقدام کے سب سے بڑے مخالف اسلام پسند ہیں، جو اب اقتدار سے باہر ہیں۔

لیکن یہ سیاسی میدان میں متنازع ہے اور شہری اتحاد میں بہت سے ایسے لوگ شامل ہیں جو پہلے فلسطینیوں کے ساتھ امن پر اصرار کرتے ہیں۔

سوڈانی وزیراعظم ہمدوک کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد ان کے سویلین حامیوں کا اتحاد ٹوٹ جائے گا۔

انھوں نے مائیک پومپیو کو بتایا کہ اس مسئلے پر فیصلے میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کا انتظار کرنا چاہیے، جو کہ تین سال کے عرصے میں ہو گا۔

اگرچہ ہمدوک اور ان کی سویلین کابینہ عہدے پر موجود ہیں لیکن یہ سوڈان کے جرنیل ہی ہیں جو حقیقی طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مصر کی حمایت میں عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبد الفتاح البرہان اور ان کے نائب لیفٹیننٹ جنرل محمد ہمدان ڈگولو، جو ’ہیمتی‘ کے نام سے مشہور ہیں، فوج کو احکام اور پیسہ دیتے ہیں۔

اور یہ وہی جنرل ہیں جو اسرائیل کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ جنرل برہان نے وزیراعظم ہمدوک کو بتائے بغیر فروری میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی۔

اسی لیے سوڈانی ڈیموکریٹس نے اس معاہدے پر احتیاط سے نظر ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

گذشتہ برس اپریل میں جب احتجاج کے نتیجے میں عمر البشیر اقتدار سے باہر ہو گئے تو جنرل برہان اور جنرل ہیمتی نے اقتدار سنھبال لیا تھا۔ اس کے دو ماہ بعد ان کے فوجیوں نے 100 سے زائد مظاہرین کو پرتشدد جھڑپ میں ہلاک کر دیا تھا۔

اس سے شور مچ گیا، جس کے بعد امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مدد سے ایک معاہدے کے تحت وہ سویلین کابینہ کے ساتھ اقتدار میں حصہ لینے پر راضی ہو گئے۔

دوسرے مسائل‘

سب سے اہم بات یہ ہے کہ فوج عام شہریوں کو صرف اس لیے برداشت کرتی ہے کہ کیونکہ انھیں بین الاقوامی سطح پر عزت و احترام کی ضرورت ہے۔ سوڈانی عوام نے جرنیلوں کو ان کی بربریت اور مظالم کے لیے معاف نہیں کیا۔

پرانی نسل ابھی بھی ’آپریشن موسیٰ‘ کو یاد کرتی ہے، جو سنہ 1984 میں اس وقت کے صدر جعفر نمیری کا معاہدہ تھا جس کے تحت اسرائیل کو سوڈان کے پناہ گزین کیمپوں سے ایتھوپیائی یہودیوں کو منتقل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

نیمیری پر بعد میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد سے لاکھوں ڈالر رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اسرائیل اور ایتھوپیا کے یہودی

کسی اور عرب ممالک کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اسرائیلیوں کے لیے واقعی ایک انعام ہے۔

لیکن ان نوجوان اسرائیلیوں اور ان کے امریکی ہم منصبوں کے نزدیک جنھوں نے 15 سال قبل دارفور میں بڑے پیمانے پر مظالم کے خلاف مظاہرہ کیا تھا، ان افراد کے قانونی اختیار کی حمایت کرنا جنھوں نے ملیشیاؤں کو اس قتل عام حکم دیا تھا، اخلاقی طور پر نامناسب اقدام ہے۔

لیکن سوڈانی وزیر اعظم ہمدوک کا نقطہ نظر کافی معقول تھا: دہشتگردی کی فہرست سے نکالنا اور اسرائیل کو تسلیم کرنا دو الگ معاملے ہیں۔

وہ اس بار پر زور دیتے آئے ہیں کہ سوڈان کو دہشتگردی کی فہرست سے نکال دینا چاہیے کیونکہ وہ اپنی سرزمین سے دہشتگردوں کا خاتمہ کر چکا ہے اور اس کی جمہوریت بچانے کے لائق ہے۔