قندھار ہائی جیکنگ: انڈین ایئرلائنز کی پرواز 814 قندھار کیسے پہنچی اور پھر کیا ہوا

Vehicle Tracking Solution

قندھار ہائی جیکنگ: انڈین ایئرلائنز کی پرواز 814 قندھار کیسے پہنچی اور پھر کیا ہوا

December 24, 2020 International News 0
  • محمد کاظم
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

کسی طیارے کے ہائی جیک ہونے کے بعد ٹی وی سکرینز پر جو مناظر زیادہ نظر آتے ہیں ان میں جہاز کے اردگرد سیکورٹی اہلکاروں اور گاڑیوں کی تیزی سے حرکت کے ہوتے ہیں۔

لیکن دو دہائیوں قبل صحافیوں کی حیرت کی انتہا نہیں رہی جب انھوں افغانستان کے صوبہ قندھار کے ایئرپورٹ پر ہائی جیک ہونے والے طیارے کے گرد بکتر بند گاڑی کے بجائے ایک شخص کو سائیکل پر چکر کاٹتے دیکھا۔

یہ کہانی اس انڈین طیارے کی ہے جسے اڑان بھرنے کے بعد ہائی جیک کیا گیا اور پھر اسے تین ایئرپورٹس پر اتارنے کے بعد قندھار پہنچایا گیا۔

تاریخ میں افغانستان کے صوبہ قندھار کی اہمیت کسی طرح سے بھی کابل سے کم نہیں رہی۔ مگر نوے کی دہائی سے پہلے بین الاقوامی میڈیا نے اس صوبے کو زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔

تاہم نوے کی دہائی کے دوران جن دو بڑے واقعات کے باعث یہ علاقہ دنیا کی توجہ کا مرکز بنا رہا ان میں سے ایک طالبان کا ظہور اور قندھار پر قبضہ اور دوسرا انڈین ایئر لائنز کے طیارے کی ہائی جیکنگ تھی۔

انڈین طیارے کو کب اور کہاں سے ہائی جیک کیا گیا

یہ 24 دسمبر 1999 کی بات ہے جب انڈین ایئر لائنز کا طیارہ 814 نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے انڈیا کے شہر لکنھؤ کے لیے اڑا۔ اس ایئربس میں 176 مسافروں کے علاوہ پائلٹس سمیت جہاز کے عملے کے 15 افراد سوار تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنی منزل کی جانب روانگی پر مسافر انتہائی خوش تھے لیکن ان کی یہ خوشی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہی کیونکہ جب یہ طیارہ انڈین فضائی حدود میں داخل ہوا تو ایک نقاب پوش شخص اٹھا اور کاک پٹ کی جانب بڑھا۔

اس نقاب پوش نے طیارے کے پائلٹ کو دھمکی دی کہ اگر انھوں نے طیارے کا رخ لکھنؤ کے بجائے مغرب میں لاہور کی جانب نہیں موڑا تو وہ طیارے کو بم سے اڑا دیں گے۔

اس کے ساتھ ہی اس کے چار دیگر نقاب پوش ساتھی بھی کھڑے ہوئے اور جہاز کے مختلف حصوں میں پوزیشن سنبھال لیں۔

قندھار ایئرپورٹ سے پہلے طیارہ کہاں کہاں گیا؟

اگرچہ طیارے کے پائلٹ کیپٹن دیوی شرن نے لکھنؤ کے بجائے طیارے کا رخ لاہور کی جانب موڑا لیکن اس سفر کے لیے ان کے پاس ایندھن ناکافی تھا۔ یہ وجہ تھی کہ ہائی جیکروں کے اتفاق سے طیارے کو انڈین پنجاب کے شہر امرتسر میں اتارا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارے کی لینڈنگ پر انڈین پولیس نے ہائی جیکروں کے خلاف کارروائی کی تیاری کی تھی اور شاید ہائی جیکرز نے یہی خطرہ محسوس کرتے ہوئے طیارے کے پائلٹ کو ایندھن لیے بغیر ہی لاہور کے لیے اڑان بھرنے پر مجبور کیا۔

ابتدائی طور پر پاکستانی حکام نے طیارے کو لاہور میں اترنے کی اجازت نہیں دی اور اس مقصد کے لیے ایئرپورٹ کی لائٹس کو بند کر دیا گیا۔

لیکن ہائی جیکروں کے دباؤ کے باعث پائلٹ کے پاس ایندھن بھرنے کے لیے لاہور ایئرپورٹ کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور بالآخر طیارے کو لاہور ایئرپورٹ پر اتارنے کی اجازت دی گئی۔

تاہم ایندھن بھرنے کے بعد پاکستانی حکام نے طیارے کے پائلٹ کو فوری طور پر لاہور ایئرپورٹ چھوڑنے کا کہا۔

لاہور کے بعد یہ طیارہ دبئی ایئرپورٹ پہنچ گیا اور وہاں ہائی جیکروں نے 27 مسافروں کو طیارے سے اترنے کی اجازت دے دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈین حکام نے دبئی ایئرپورٹ پر طیارے کو ہائی جیکروں سے چھڑانے کے لیے متحدہ عرب امارات کے حکام سے کارروائی کے اجازت کی درخواست کی تھی لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔

اس کے بعد یہ طیارہ افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار کے ایئرپورٹ پہنچا اور ہائی جیکنگ کے اختتام تک وہیں کھڑا رہا۔

قندھار ایئرپورٹ دنیا کی توجہ کا مرکز

قندھار میں طیارے کے اترنے کے چند گھنٹے بعد وہاں صحافیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔

چونکہ قندھار ایئرپورٹ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے قریب ہے اس لیے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے نمائندے سب سے پہلے کوئٹہ پہنچے۔

کوئٹہ سے جو صحافی سب سے پہلے قندھار پہنچے تھے ان میں کوئٹہ میں بی بی سی پشتو سروس کے ایوب ترین شامل تھے جبکہ ان کے بعد پہنچنے والوں میں سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقار اور اے ایف پی سے وابستہ معروف فوٹو گرافر بنارس خان شامل تھے۔

دو دہائیاں گزرنے کے باوجود، ہائی جیکنگ کے شروع سے اختتام تک کے تمام مناظر اب بھی ان افراد کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔

ایوب ترین نے بتایا کہ وہ پہلے روز قندھار میں ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ماہِ رمضان میں پیش آیا تھا۔

’جب ہم سحری کے لیے اٹھے تو ہوٹل میں موجود لوگ ہمیں گھور کر دیکھنے لگے کہ بغیر داڑھی کے یہ مخلوق کہاں سے آئی ہے۔ ہوٹل میں موجود لوگ اس بات سے بے خبر تھے کہ کسی انڈین طیارے کو اغوا کر کے ان کے شہر کے ایئرپورٹ پر لایا گیا ہے۔‘

سائیکل اور موٹر سائیکل پر گشت

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ انھوں نے قندھار ایئرپورٹ پر جو سب سے عجیب و غریب چیز دیکھی وہ ایک شخص کا سائیکل پر ایئرپورٹ آنا اور اسی سائیکل پر طیارے کے گرد چکر لگانا تھی۔

بنارس خان کے مطابق وہاں سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینے والے سائیکل یا موٹر سائیکل پر ہی گشت کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات پر حیران تھے کہ ایسے موقعوں پر تو بکتر بند گاڑیاں اور سکیورٹی کے جدید آلے ہونے چاہئیں لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔

شہزادہ ذوالفقار کے مطابق ان کے استفسار پر بتایا گیا کہ جو شخص زیادہ تر سائیکل پر چکر لگاتا تھا وہ ایئرپورٹ کے علاقے کی پولیس میں ایس ایچ او کے رتبے کا اہلکار ہے۔

شدید سردی اور سہولیات کا فقدان

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ چونکہ وہ ایک اہم واقعے کی کوریج کے لیے گئے تھے اس لیے وہ رات کو ایئرپورٹ نہیں چھوڑنا چاہتے تھے کیونکہ رات کو کوئی بھی بڑا واقعہ ہوسکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دنوں غضب کی سردی تھی اور رہائش کا مناسب انتظام نہیں تھا۔

انھوں نے بتایا کہ شدید سردی سے بچاؤ کے لیے ان کے پاس صرف گاڑیاں تھیں ۔ ’جتنے دن صحافی وہاں رہے ان کے پاس جو گاڑیاں تھیں انھوں نے سردی سے بچنے کے لیے ان کو مستقل اسٹارٹ رکھا اوروہ گاڑیوں کے اندر بیٹھ کر سردی سے بچنے کی کوشش کرتے رہے۔‘

’میں نے کوئٹہ سے جو جوتے پہنے تھے شدید سردی اور وہاں سونے کی مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے دو تین روز تک ان جوتوں کے تسمے تک نہیں کھولے۔‘

انھوں نے بتایا کہ جہاں سردی میں مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے وہ نہیں سو سکتے تھے وہاں اس اہم واقعے کی اہمیت کے پیش نظر کسی کے لیے نیند پوری کرنا ممکن بھی نہیں تھا اس لیے وہاں موجود صحافیوں نے باری باری چار چار گھنٹے سونے کا فیصلہ کیا۔

دستیاب وسائل میں بی بی سی کے نمائندوں کو پہلی ترجیح

غیرجانبداری کی وجہ سے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے دیہی علاقوں میں لوگوں میں بی بی سی کے لیے بہت زیادہ احترام پایا جاتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ طالبان حکام کے پاس جو دستیاب سہولیات تھیں ان کی فراہمی میں میڈیا کے اداروں میں بی بی سی پشتو سروس کے نمائندے کو پہلی ترجیح دی گئی۔

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ جب ایئرپورٹ پر کمبل اوردیگر اشیا لائے گئے تو طالبان حکام نے سب سے پہلے بی بی سی پشتو سروس کے ایوب ترین کا نام لیا۔

خود ایوب ترین نے بتایا کہ ان کو گورنر ہاؤس قندھار میں رہائش بھی دی گئی جہاں ان کے ساتھ بسا اوقات دوسرے صحافی بھی آتے تھے۔

خطرے کے باوجود جہاز کے قریب بڑی آگ

چونکہ ایئرپورٹ بالخصوص طیارے کے قریب سردی سے بچنے کا کوئی خاطرخواہ انتظام نہیں تھا جس کے باعث سکیورٹی پر مامور طالبان اہلکاروں نے اس کا حل میدان میں لکڑیاں جلا کر نکالا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ لکڑیاں بہت زیادہ دور نہیں بلکہ جہاز کے بالکل قریب جلائی جاتی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ کسی بھی طیارے کے نیچے آگ جلانا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہوتا ہے لیکن طالبان کو اس بات کی بالکل پرواہ نہیں تھی اور اس کا خیال رکھے بغیر اس کے بالکل قریب آگ جلاتے رہے۔

کھانے پینے کے حوالے سے مشکلات سامنا

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ جس طرح قیام کے حوالے سے صحافیوں کو مشکلات کا سامنا تھا اسی طرح کھانے پینے کے حوالے سے بھی یہ مشکل درپیش تھی۔

انھوں نے بتایا کہ پہلے ایک دو روز اس حوالے سے مشکلات زیادہ تھیں لیکن بعد میں یہ مشکل کسی حد تک حل ہوگئی کیونکہ ریڈ کراس کے ایک طیارے میں خوراک وہاں لائی جاتی رہی۔ تاہم بعض صحافی کھانا کھانے کے لیے شہر بھی جاتے رہے۔

ایوب ترین نے بتایا کہ طالبان کی جانب سے طیارے میں موجود مسافروں اور دیگر افراد کو طالبان کی جانب سے کھانے پینے کی اشیا فراہم کی جاتی رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کا فوڈ پیکیج ایک پلاسٹک کی تھیلی میں ایک روٹی، ایک لیگ پیس اور ایک مالٹے پر مشتمل ہوتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ طیارے کے مسافروں نے اس کھانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر وقت یہ کھانا نہیں کھا سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد کھانے کا مسئلہ حل ہوا کیونکہ اسلام آباد سے اقوام متحدہ کے ایک طیارے میں فائیو اسٹار ہوٹلوں سے کھانا آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

کمانڈو ایکشن کی تیاری

بنارس خان نے بتایا کہ جب شروع کے پہلے ایک دو روز میں مسئلہ حل نہیں ہوا تو طالبان کی جانب سے کسی کارروائی کے آثار نظر آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے لیے کوئی خاص فورس نہیں تھی بلکہ وہی طالبان جو ایئرپورٹ پر ہوتے تھے انھوں نے اپنے کپڑوں کے اوپر وہ والی وردی پہنی جو کہ عام طور پر ایئرفورس کے اہلکار پہنتے ہیں تاہم عملی طور پر طالبان کی جانب سے شاید کسی نقصان سے بچنے کے لیے کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔‘

تاہم شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ طالبان کی جانب سے جو لوگ ایئرپورٹ پر تھے یا جو وہاں آتے جاتے تھے ان کو ایسی کسی صورتحال سے نمٹنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ اس دوران وہاں طالبان کی جانب سے بتایا گیا کہ انڈین حکومت کی جانب سے کمانڈو ایکشن کا بھی کیا گیا لیکن انھوں نے اس کی اجازت نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے یہ بتایا تھا کہ وہ کسی بھی غیر ملکی فورس کو اپنی سرزمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دے سکتے۔

تیکنیکی خرابی کی وجہ سے طیارے کی ایئر کنڈیشننگ سسٹم کی بندش

بنارس خان نے بتایا کہ ہائی جیکنگ کے تیسرے روز طیارے کا ایئر کنڈیشننگ سسٹم بند ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یرغمالی مسافروں کو ایک بہتر ماحول کی فراہمی کے لیے ایئرکنڈیشننگ سسٹم کا چلنا ناگزیر تھا تاہم جب ایئر کنڈیشننگ سسٹم بند ہوا توپریشانی بڑھ گئی۔

انھوں نے بتایا کی چونکہ انڈین حکام تسلسل کے ساتھ قندھار ایئرپورٹ آرہے تھے ان کے ساتھ انڈین انجنیئر بھی آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان انڈین انجنیئرز میں سے ایک کو اندر لے جایا گیا اور وہ خرابی کو دور کرکے نکل گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ خرابی دور کرنے کے بعد جب انڈین انجنیئرز کو صحافیوں نے کچھ کہنے کے لیے مجبور کیا تو انھوں نے بتایا کہ ہائی جیکروں نے ان کو جہاز کے کسی اور حصے میں جانے نہیں دیا بلکہ ان کو اس جگہ لے گئے جہاں فالٹ تھا۔

انھوں نے بتایا کہ صحافیوں کی بہت زیادہ کوشش کے باوجود انڈین انجنیئرز نے بہت زیادہ باتیں نہیں کیں تاہم یہ بتایا تھاکہ ’جو ہائی جیکرز ہیں وہ عام ہائی جیکرز نہیں بلکہ ان کو جہاز کے بارے میں بھی بہت ساری معلومات ہیں۔‘

صفائی کے لیے آنے والا شخص مسافروں کی حالت زار بتانے والوں کا واحد ذریعہ

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ ہائی جیکر ایک شخص کو طیارے کے اندر صفائی کرنے کے لیے چھوڑتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہی ایک شخص جہاز کے مسافروں کا حال جاننے کا ذریعہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ جب بھی وہ شخص باہر آتا تھا تو وہ بتاتا تھا کہ جہاز کے مسافر انتہائی پریشانی کے عالم میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صفائی والا شخص بتاتا تھا کہ ہائی جیکر ان کو کسی بھی مسافر سے بات نہیں کرنے نہیں دیتے بلکہ جلدی سے کام ختم کرکے نکلنے کا کہتے تھے۔

انڈین سمجھ گئے تھے کہ وہ پھنس گئے ہیں

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ انڈین حکام مذاکرات کے لیے متعدد باہر آئے اور طالبان حکام سے بات چیت کرتے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈین حکام کی شاید بہت کوشش ہوگی کہ وہ اغوا کاروں کی بات کو نہ مانیں لیکن وہاں انھوں نے جو آثار دیکھے تو انہیں سمجھ آگیا کہ ایسا ممکن نہیں ہے ۔

’وہ سمجھ گئے تھے کہ وہ پھنس گئے ہیں اور اس سے نکلنا ممکن نہیں جس کے باعث انہیں اغوا کاروں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور ان عسکریت پسندوں کو رہا کرنا پڑا جن کی رہائئ کے لیے جہاز کو ہائی جیک کیا گیا تھا۔‘

سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ اوردیگر حکام کی قندھار ایئرپورٹ آمد

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ ہائی جیکنگ کے ڈراپ سین تک قندھار ایئرپورٹ طالبان کے اعلیٰ عہدیداروں اور انڈین حکام کی آمد و رفت کا مرکز رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کے جو نمایاں عہدیدار وہاں آتے رہے ان میں سابق وزیرخارجہ عبد الوکیل متوکل اور سابق وزیر ہوا بازی و گورنر قندھار ملا اختر عثمانی کے علاوہ انڈیا کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نمایاں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جسونت سنگھ کو دو مرتبہ قندھار ایئرپورٹ آنا پڑا تھا۔

ایک مرتبہ وہ مذاکرات کے سلسلے میں آئے تھے جبکہ دوسری مرتبہ وہ اس روز آئے تھے جب ہائی جیکروں کے مطالبے پر انڈین جیل میں قید مولانا مسعود اظہر، مشتاق زرگر اور احمد عمر سعید شیخ کو رہا کرکے قندھار ایئرپورٹ لایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جس روز طیارے کا ڈراپ سین ہوگیا تو اس روز انڈیا سے دو طیارے آئے تھے ان میں سے ایک میں جسونت سنگھ تھے۔

انھوں نے بتایا کہ غالباً دوسرے طیارے میں مولانا مسعود اظہر سمیت تینوں عسکریت پسندوں کو لایا گیا تھا۔

ڈراپ سین سے پہلے ایمبولینس کی آمد اور ہائی جیکروں کی طیارے سے برآمدگی

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ ہائی جیکنگ کے ڈراپ سین سے پہلے اس طیارے کے قریب ایک ایمبولینس آکر کھڑی ہوئی۔

انھوں نے بتایا کہ طیارے کے اگلے سائیڈ کی طرف سے پانچ نقاب پوش ہائی جیکرز رسی سے لٹک کر نیچھے اتر ے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمانڈوز کی طرح برق رفتاری سے وہ اترے اور ایمبولینس میں بیٹھ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا مسعود اظہر سمیت رہائی پانے والے تینوں عسکریت پسندوں کو انھوں نے دیکھا غالباً وہ بھی اسی ایمبولینس میں بیٹھ کر چلے گئے جن میں ہائی جیکرز تھے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ معلوم نہیں کہ یہ افراد ایئرپورٹ سے نکل کر کس جانب چلے گئے تاہم ہائی جیکروں اور رہائی پانے والے عسکریت پسندوں کو طالبان حکام کی جانب سے یہ حکم تھا کہ وہ دو گھنٹے میں افغانستان چھوڑ دیں۔

مسافروں کی خوشی

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ جہاں صحافی کھڑے تھے ہائی جیک ہونے والا طیارہ اس کے بالکل قریب تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مسافروں کو صحافیوں کے قریب جانے نہیں دیا گیا لیکن صحافی ان کے چہرے بخوبی دیکھ سکتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہائی جیک ہونے والے طیارے سے اترتے اور دوسرے طیارے میں داخل ہونے کے لیے سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے وہ اتنے خوش تھے کہ جیسے ان کو نئی زندگی ملی ہو۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *