کیا روس کو امریکہ اور انڈیا کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے پریشانی ہو رہی ہے؟

Vehicle Tracking Solution

کیا روس کو امریکہ اور انڈیا کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے پریشانی ہو رہی ہے؟

December 24, 2020 International News 0
  • سروج سنگھ
  • بی بی سی ہندی

انڈیا اور روس کی دوستی کا ذکر ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔

اس سے قبل انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تنازعے کی وجہ سے روس میں دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کی ملاقات ہوئی تھی، اس وقت بھی روس کے ساتھ انڈیا کی دوستی پر خوب بات ہوئی تھی۔

لیکن اس بار روس اور انڈیا کے تعلقات کا ذکر چین کی وجہ سے نہیں بلکہ انڈیا اور امریکہ کی قربت کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

انڈیا، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا ’کواڈ‘ کا حصہ ہیں یعنی ‘کواڈلیٹرل سکیورٹی ڈائیلاگ’۔

کواڈ کو اب رسمی شکل دے دی گئی ہے حالانکہ یہ گروپ 2007 سے وجود میں ہے لیکن تب یہ غیررسمی مانا جاتا تھا 

ویسے دنیا کواڈ کو چین کے خلاف ایک گروپ کے طور پر دیکھتی ہے لیکن اب روس اس گروپ میں انڈیا کے شمولیت پر تھوڑا تشویش میں ہے۔

ابھی تک روس نے عوامی سطح پر اس بارے میں کھل کر کچھ نہیں کہا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ روس نے انڈیا کے سامنے شفاف اور سخت الفاظ میں اپنے اعتراضات درج کرا دیے ہیں۔

روس اور انڈیا کے درمیان سالانہ اجلاس 20 برسوں سے ہورہا ہے لیکن اس بار یہ اجلاس نہیں ہو رہا ہے۔ انڈیا اور روس کے درمیان 20 برس میں پہلی بار اجلاس نہ ہونے کی وجہ کورونا کی وبا قرار دیا جا رہا ہے۔

لیکن حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی اس کی وجہ کواڈ کو قرار دے رہے ہیں۔ بدھ کو انھوں نے اس سے متعلق ایک آرٹیکل ٹوئیٹر پر شئیر کیا تھا۔

روس کو کواڈ پر کیا اعتراض ہے؟

8 دسمبر کو سرکاری تھنک ٹینک رشین انٹرنیشنل افئیرز کاؤنسل کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے روس کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ مغربی ممالک انڈیا اور روس کے قریبی رشتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا اشارہ کواڈ گروپ کی جانب ہی تھا۔

اس کے بعد انڈیا میں روس کے سفیر نکول کشودیو نے حال ہی میں بحر ہند میں یوریشین معاہدے کی پیش کش کی تھی۔

اس لیے یہ سمجھنا ضرورہی ہے کہ آخر روس کو کواڈ گروپ سے کیا پریشانی ہے۔

ماسکو میں موجود سینئیر صحافی ونے شکلا کہتے ہیں کہ ’یہ حقیقت ہے کہ کورونا کی وجہ سے اس برس سالانہ اجلاس نہیں ہو رہا ہے۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ روس کواڈ کے بارے میں تھوڑا پریشان ہے‘۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’پہلی وجہ یہ ہے کہ روس کے مطابق انڈیا کا اس گروپ میں شامل ہونا ایک غیر اخلاقی بات ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ روس کو ایسا لگتا ہے کہ آگے چل کر کواڈ گروپ بحر ہند کے علاقے میں روس کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔

’امریکہ اور روس ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ امریکہ کواڈ میں شامل ہے۔ بھلے ہی کواڈ کو چین مخالف سمجھا جارہا ہے لیکن روس کو ایسا لگتا ہے کہ اس گروپ کا کنٹرول امریکہ کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس طرح سے انڈیا ‘اینٹی روس’ خیمے کا حصہ بن جائے گا۔ انڈو پیسفک میں جو روسی بحری بیڑہ ہے اس کے لیے خطرہ پیدا ہوسکتا ہے‘۔

حالانکہ جواہر لال یونیورسٹی کے سینٹر فار رشین سٹیڈیز میں پروفیسر سنجے پانڈے کہتے ہیں ’روس کو بھلے ہی روسی بحری بیڑے کے تحفظ کے بارے میں تشویش ہو لیکن میرا خیال ہے انڈیا کبھی بھی روس مخالف کارروائیوں میں حصہ نہیں لے گا۔ کواڈ کو چین سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ انڈیا کواڈ کو اسی زاویے سے دیکھتا ہے لیکن کھل کر کبھی یہ بات کہتا نہیں ہے‘۔

روس نے ثالث کا کردار ادا کیا

اس برس مئی کے مہینے سے ہی لداخ خطے میں انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ جب بات زیادہ بگڑی تو روس میں ہی انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے چین کے وزیر دفاع سے ملاقات کی۔

متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا کے کہنے پر روس نے دونوں ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ ڈوکلام تنازعے کے وقت بھی روس نے اس طرح کا کردار ادا کیا تھا۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جب انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ جاری ہو اور روس ثالت کا کردار ادا کر رہا ہو تب بھی انڈیا کا ’چین مخالف گروپ‘ کا حصہ بننا ایک غیر اخلاقی بات ہے۔

‘بیکا معاہدے پر روس کی تشویش

کواڈ گروپ بنانے کی پیشکش 2007 میں جاپان کے وزیر اعظم شنزو ایبے نے کی تھی جس کی انڈیا، امریکہ، اور آسٹریلیا نے حمایت کی تھی۔ اس وقت بحیرہ جنوبی چین میں چین نے اپنا اسرورسوخ دکھانا شروع کیا تو سب کو تشویش ہونے لگی کی دنیا کے اصول و ضوابط کو بھلا کر چین اپنی من مانی کرنے لگا ہے۔ انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا کے درمیان تجارت اسی سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ اس وقت کواڈ کا رویہ جارحانہ نہیں تھا۔

گزشتہ برس ان چاروں ممالک کے نمائندوں کی نیویارک میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس سال کی میٹنگ ٹوکیو میں ہوئی جس کے بعد یہ باقاعدہ طور پر ایک سرکاری گروپ بن گیا۔

پروفیسر سنجے پانڈے کہتے ہیں ’روس کو ایسا لگتا ہے کہ کواڈ گروپ میں شمولیت کے ساتھ یہ بات پکی ہوگئی ہے کہ امریکہ اور انڈیا کے مضوبط دفاعی رشتے ہیں۔ کواڈ بھلے ہی ایک دفاعی معاہدہ نہ ہو لیکن اس گروپ میں بعض ایسے ضوابط ہیں جو بظاہر دفاعی معاہدے جیسے لگتے ہیں۔ اس لیے روس کواڈ میں انڈیا کی شمولیت کے بارے میں پریشان اور فکرمند ہے‘۔

دراصل اکتوبر میں کواڈ ممالک کے وزراء خارجہ کی میٹنگ کے بعد انڈیا اور امریکہ کے درمیان ‘ بیکا معاہدہ’ ہوا تھا۔

بیکا یعنی ’بیسک ایکسچینج اینڈ کوپریشن اگریمینٹ‘۔

اس معاہدے کے تحت انڈیا اور امریکہ ایک دوسرے کے ساتھ جدید دفاعی سازو سامان اور فوجی معلومات شئیر کریں گے۔

اس معاہدے کے بعد امریکہ کے وزیر دفاع نے کہا تھا ’دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ ہمارے باہمی اقدار اور مفادات پر مبنی ہے۔ انڈو پیسیفک علاقہ سب کے لیے کھلا اور آزاد ہو اس کے لیے ہم کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ خاص طور پر چین کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے اور اس کی غیر مستحکم کرنے والی کاروائیوں کے پیش نظر یہ معاہدہ بے حد ضروری تھا‘۔

یہ وہ معاہدہ ہے جس پر روس کو تشویش ہے۔

پروفیسر سنجے پانڈے کہتے ہیں ’ابھی تک امریکہ نے ایسا دفاعی معاہدہ برطانیہ، نیٹو، آسٹریلیا اور اسرائیل جیسے ممالک کے ساتھ ہی کیا تھا۔ ان ممالک کے بعد انڈیا پہلا ملک ہے جس کے ساتھ اس نے یہ معاہدہ کیا ہے‘۔

حالانکہ انڈیا کے لیے روس کا اشتراک اہم ہے اور امریکہ کا بھی .

کیا روس انڈیا کو خارجہ پالیسی ڈکٹیٹ کررہا ہے

روس اور انڈیا کے درمیان سالانہ اجلاس نہ ہونے کی خبریں آنے کے بعد متعدد ماہرین سوشل میڈیا یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ روس انڈیا کی خارجہ پالیسی کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش تو نہیں کررہا؟

غزالہ وہاب ‘فورس’ میگزین کی عبوری مدیر ہیں۔ بی بی سی سے بات کرے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’تہ کہنا غلط ہے کہ روس انڈیا کی خارجہ پالیسی ڈکٹیٹ کر رہا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تنازعے کے دوران روس کو ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے انڈیا نے کہا تھا۔ انڈیا کو لگتا ہے کہ چین پر روس کا اسرورسوخ ہے۔ چین روس کی بات سنتا ہے۔ منموہن سنگھ کے دور اقتدار میں ایک وقت ایسا آیا تھا جب چین اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں روس نے ایسا ہی کردار ادا کیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی جب ووہان گئے تھے تو اس وقت سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی تھی۔ روس نے اس دوران بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ چین اور انڈیا کے درمیان جب جب حالات کشیدہ ہوتے ہیں انڈیا مدد کے لیے ہمیشہ روس کے پاس جاتا رہا ہے۔

’انڈیا نے روس کو ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے جگہ دی ہے۔ امریکہ روس جیسا کردار پاکستان اور انڈیا کے کے تناظر میں ادا کرے، انڈیا نے یہ موقع امریکہ کو کبھی نہیں دیا جبکہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں کئی بار اس کی پیشکش کی ہے‘۔

وہ کہتی ہیں ’اس سے یہ واضح ہے کہ روس انڈیا کی خارجہ پالیسی کو ڈکٹیٹ نہیں کررہا ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ روس اب انڈیا کو بتا رہا ہے کہ انڈیا ایک ساتھ دو گھوڑوں پر سواری نہیں کرسکتا ہے۔ انڈیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کو کس کے ساتھ رہنا ہے۔‘

پروفیسر سنجے پانڈے بھی غزالہ کی اس بات سے متفق ہیں۔ ان کے مطابق ’روس کھل کر یہ نہیں کہتا ہے کہ انڈیا روس اور امریکہ میں سے کسی ایک کا اتنخاب کرے۔ اس نے یہ بات بھلے ہی نہ کہی ہو لیکن اس کا مطلب یہی ہے‘۔

انڈیا اس وقت ’ملٹی پارٹنرشپ‘ کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے جس میں بہت سارے اہم پارٹنرز ہوں گے۔ اور اس فہرست میں روس اور امریکہ سب سے اوپر ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *