ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف ناختم ہونے والی ’خفیہ جنگ‘ کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟

Vehicle Tracking Solution

ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف ناختم ہونے والی ’خفیہ جنگ‘ کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟

December 30, 2020 International News 0

ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس حملے میں کئی حملہ آور شامل تھے لیکن اب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو سڑک کے بیچوں بیچ ایک ایسی مشین گن سے ہلاک کیا گیا جسے کہیں دور سے ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔

ایرانی حکام کو یقین ہے کہ 27 نومبر کو ملک کے اہم ترین جوہری سائنسدان کے قتل میں اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ اس یقین کے پیچھے سادہ سی منطق ہے۔ اسرائیل ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے پاس ایرانی سرزمین پر ایک انتہائی اہم ہدف کو نشانہ بنانے کی وجہ اور صلاحیت دونوں موجود ہیں۔

لیکن ایک بات پر ایک عمومی اتفاقِ رائے موجود ہے اور وہ یہ کہ اسرائیل پہلے بھی اس نوعیت کی کارروائیاں کر چکا ہے۔

سنہ 2010 سے 2012 کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک کم از کم چار سائنسدانوں کو قتل کیا جا چکا ہے جبکہ ایک حملے میں ایک سائنسدان شدید زخمی ہوا تھا۔

صرف یہی خفیہ کارروائیاں نہیں ہیں جنھیں مبنیہ طور پر اسرائیلی سیکرٹ سروس ’موساد‘ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسرائیل کے انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز سے منسلک ریز زیمٹ کہتے ہیں ’موساد زیادہ تر ایسی خفیہ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا کیونکہ کوئی نہیں چاہتا کہ ایرانی کی ممکنہ جوابی کارروائیوں کو جواز ملے۔‘

اسرائیلی امور کے ماہر ریز زیمٹ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً جب بات ایران اور خفیہ کارروائیوں کی ہو، خاص طور پر اس کے جوہری پروگرام کے خلاف، تو ایسے بہت کم ممالک ہیں جو اس کے جوہری پروگرام کو روکنے میں اتنی زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’عام طور پر موساد یا سی آئی اے یا دونوں مشترکہ طور پر یہ کرتے ہیں۔‘

خفیہ کارروائیوں کی دو دہائیاں

یہ دونوں ایجنسیاں کافی عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو خفیہ کارروائیوں کے ذریعے مبینہ طور پر نقصان پہنچانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

رچرڈ میہر نے جرنل آف سٹریٹیجک سٹڈیز میں چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں ایسی کارروائیوں کی شناخت کی ہے جو کم از کم گذشتہ 20 سال سے جاری ہیں۔

رچرڈ میہر یونیورسٹی کالج ڈبلن میں انٹرنیشنل سکیورٹی کے پروفیسر ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’انھوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے لیے سینٹری فیوجز اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل کو سبوتاژ کرنے سے اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا۔‘

’یقیناً یہ سب خفیہ تھا۔ ایران اوپن مارکیٹ سے یہ سامان نہیں خرید سکتا تھا، اسے دیگر ذرائع پر ہی انحصار کرنا تھا۔ تو امریکہ اور دیگر ممالک نے ترسیل کے نظام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی اور کئی مرتبہ اس میں کامیاب ہوئے۔‘

اس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے باہمی تعاون سے ’سٹکس نیٹ‘ نامی کمپیوٹر ورم بنایا جسے اس زمانے میں کمپیوٹر سسٹم کو نقصان پہنچانے والے سافٹ ویئر (مال ویئر) بنانے کی سب سے بڑی کوشش قرار دیا گیا تھا۔

اس مال ویئر کا ہدف ایران کا ’نتنز جوہری پاور پلانٹ‘ تھا۔ سنہ 2007 سے 2010 تک یہ نیوکلئر پاور پلانٹ مسلسل سائبر حملوں کا نشانہ رہا اور جس کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق اس پلانٹ میں سینٹری فیوجز کا پانچواں حصہ ناکارہ ہو گیا تھا۔

اس کے بعد جنوری 2010 میں موٹر سائیکل بم کے ایک حملے میں ایران کے جوہری سائنسدان مسعود علی محمد ہلاک کر دیے گئے۔ وہ ان چار سائنسدانوں میں سے پہلے تھے جنھیں اگلے دو برسوں میں قتل کیا گیا۔

27 نومبر 2010 کو نیوٹرون ایکسپرٹ ماجد شہریاری کو ان کی گاڑی میں بم نصب کر کے ہلاک کیا گیا۔ اسی روز ایسے ہی ایک حملے میں ان کے ساتھی فریدون عباسی شدید زخمی ہوئے۔

اس کے بعد جولائی 2011 میں ماہر طبیعات درویش رضائی نژاد کو ان کے گھر کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ جبکہ جنوری 2012 میں مصطفیٰ احمدی روشن کو بھی ایک دھماکے میں ہلاک کیا گیا۔

حملوں میں توقف اور دوبارہ آغاز

رچرڈ میہر کہتے ہیں ’اس بات پر اتفاق ہے کہ ان ہلاکتوں کے پیچھے اسرائیل ہے۔ امریکہ کا شاید اس میں کچھ لینا دینا نہیں۔‘

حالانکہ جنوری 2015 میں ایران نے دعوی کیا تھا کہ اس نے اپنے ایک سائنسدان پر قاتلانہ حملے کو ناکام بنایا ہے لیکن رچرڈ میہر کے مطابق اس سال جوہری معاہدے کی وجہ سے ایران کے خلاف خفیہ کارروائیوں میں کمی آ گئی تھی۔

تاہم سنہ 2018 کے اوائل میں موساد نے ایک ویئر ہاوس پر چھاپہ مار کر وہاں موجود ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بڑی تعداد میں دستاویزات برآمد کر لی تھیں۔ اس کے بعد سنہ 2020 میں ایران کے خلاف خفیہ کارروائیوں میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ان کارروائیوں میں چند مہینے قبل نتنز جوہری پاور پلانٹ میں پراسرار دھماکہ بھی شامل ہے۔ ایران کا الزام ہے کہ یہ بھی موساد کا کام ہے۔

اس کے بعد جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کا قتل ہوا جن کے بارے میں سنہ 2018 میں چوری ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ’اے ایم اے ڈی‘ نامی پراجیکٹ کے ڈائریکٹر تھے۔ یہ وہ خفیہ منصوبہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے اسے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے جن کی تیاری ایران نے بظاہر سنہ 2003 میں معطل کر دی تھی۔

ریز زیمٹ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو ایران کے اس فیصلے کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے جو اس نے امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد کیا۔ ایران نے بھی جواباً معاہدے کے تحت اپنے اوپر عائد شرائط کو ختم کر دیا۔

’اس کے بعد سے ایران نے جوہری صلاحیت بڑھانے میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔ اس صورتحال نے اسرائیل کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایسا کچھ کرے کہ ایران کا جوہری پروگرام تاخیر کا شکار ہو۔‘

ریز زیمٹ اور رچرڈ میہر دونوں کو فخری زادہ کے قتل کے اثرات کا اندازہ ہے۔

مڈلزبری انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل سٹڈیز میں ’نان پرولیفریشن اینڈ ٹیررازم سٹڈیز‘ کے پروفیسر فلپ بلیک کہتے ہیں کہ ’اس وقت یہ تجزیہ کرنا ایک مشکل کام ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک لوگوں کو وقتاً فوقتاً قتل کرنے کی بظاہر اس مہم کے نتائج کیا ہوں گے۔‘

’اگر سائنٹیفک اور تکنیکی تجربے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو تقریباً ہر شخص کا نعم البدل ہو سکتا ہے۔ لیکن قائدانہ اور انتظامی صلاحیتوں کے لحاظ سے کچھ افراد کا متبادل مشکل سے ملتا ہے۔‘

پروفیسر فلپ بلیک کے مطابق محسن فخری زادہ کے بارے میں یہی اطلاعات ہیں کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کا بہت اہم حصہ تھے اس لیے ان کا متبادل ملنا زیادہ مشکل ہے۔

تاہم ریز زیمٹ سمجھتے ہیں کہ محسن فخری زادہ کا قتل بھی ایران کے جوہری پرورگرام اور جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کو زیادہ متاثر نہیں کرے گا۔

رچرڈ میہر کے خیال میں اسرائیل کا ہدف شاید مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ امریکہ میں جو بائیڈن کی قیادت میں نئی انتظامیہ اور ایران کے درمیان کسی طرح کی سفارتی مفاہمت کے امکان کو اگر ناممکن نہیں تو مشکل بنانا اسرائیل کی ایران کے خلاف کوششوں میں شامل ہے۔

’بائیڈن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ سنہ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ اور ان کی خارجہ امور کی ٹیم ایسا چاہتے ہیں اور نہ ہی اسرائیل ایسا چاہتا ہے جو ایران کو اپنے وجود کے لیے ایک خطرہ سمجھتا ہے۔‘

تاخیر بھی ایک حربہ ہے

ایسی صورتحال میں ریز زیمٹ سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف موجودہ کارروائیوں سے مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں گے۔ ’صدر روحانی یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ ’صہونی جال‘ میں نہیں پھنسیں گے۔ تو میرے خیال میں ایران اس وقت تک انتظار کرے گا جب تک بائیڈن وائٹ ہاؤس میں نہ آ جائیں۔‘

’اگر ایران یہ سجھتا ہے کہ بائیڈن پابندیاں ہٹانے کے لیے تیار ہیں اور جوہری معاہدے کو بحال کرنا چاہتے ہیں تو ایران بھی اپنی ذمہ داری پوری کرے گا چاہے اسرائیل کچھ بھی کرے۔‘

ریز زیمٹ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کی جانے والی اسرائیلی کارروائیوں نے زیادہ سے زیادہ جو کیا ہے وہ یہ ہے کہ ان کی وجہ سے ایرانی جوہری پروگرام تاخیر کا شکار ہوا ہے اور یہ بھی کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جسے نظر انداز کیا جا سکے۔

نتنز جوپری پلانٹ پر سائبر حملوں نے ایران کی جوہری کوششوں کو ایک سے ڈیڑھ سال پیچھے دھکیلا ہے۔

ریز زیمٹ کے مطابق سب یہ سمجھتے ہیں کہ خفیہ کارروائیاں ایران کو ایک جوہری طاقت بننے سے نہیں روک سکتیں صرف اس میں تاخیر کر سکتی ہیں۔’لیکن تاخیر کروانا بھی ایک حکمتِ عملی ہے۔‘

’اسرائیل کا موقف یہ ہے کہ، اور میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں اس سے متفق ہوں، اگر ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے اور زیادہ سے زیادہ پابندیاں لگائی جائیں تو ایران مذاکرات اور زیادہ رعایتیں دینے پر مجبور ہو گا۔ اور جب تک یہ نہیں ہوتا اس وقت تک اس کے جوہری پروگرام میں جتنا ممکن ہو تاخیر کروائی جائے۔‘

تاہم فلپ بلیک کا کہنا ہے کہ خفیہ کارروائیوں کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔

’یہ ایران کے عزائم کو منفی طریقے سے آگے بڑھانے کی تحریک بھی پیدا کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اس وجہ سے ایران میں ان لوگوں کا اثر بڑھ سکتا ہے جو جوہری ہتھیار بنانے کے بارے میں سخت موقف رکھتے ہیں۔‘

رچرڈ میہر بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں ’جیسے ہی وہ ایران پر مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں تو ساتھ ہی وہ جوہری صلاحیت بہتر کرنے کے ایرانی عزم میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔‘

’یہ طے کرنا مشکل ہے کہ ایران کے خلاف خفیہ آپریشن کتنے موثر ہیں کیونکہ ہمیں یہ نہیں معلوم یہ ایران میں فیصلہ سازی پر کتنے اثرانداز ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ اتنے موثر نہیں ہیں۔‘

پیچیدہ مستقبل

رچرڈ میہر سمجھتے ہیں اسرائیل ایران کے خلاف اپنی خفیہ سرگرمیاں ترک نہیں کرے گا۔ ’اسرائیل کے پاس ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے فوجی صلاحیت موجود نہیں ہے۔‘

رچرڈ میہر کے خیال میں اگر بائیڈن یہ اشارہ دیتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور شاید سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کے کچھ مخصوص نکات کو بحال کر سکتے ہیں تو میرے خیال میں ہم اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مزید خفیہ کارروائیاں ہوتے دیکھیں گے۔‘

تاہم زیمٹ کے خیال میں جوہری معاہدے کی بحالی سب کے لیے فائدے مند ہے۔ ’امریکہ کے جوہری معاہدے سے نکلنے سے پہلے ایران جوہری ہتھیاروں سے ایک سال دور تھا۔ آج وہ صرف تین یا چار مہینے دور ہے۔‘

’اگر جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں اور ایران اپنی کچھ جوہری سرگرمیوں کو ترک کرنے پر تیار ہو جاتا ہے جو اس نے گذشتہ سال کی تھیں تو ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے ایک مرتبہ پھر تقریباً ایک سال دور ہو سکتا ہے۔‘

ریز زیمٹ کے خیال میں اس وقت یہی وہ زیادہ سے زیادہ فائدہ ہے جو حاصل کیا جا سکتا ہے حالانکہ جوہری معاہدے کے سنہ 2030 میں ختم ہونے تک یہ مسئلہ صرف ٹالا جا سکتا ہے۔

’میرے خیال میں ایرانیوں کا ہدف یہ ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے بالکل قریب پہنچ جائیں۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار تیار رکھے ہوں۔ لیکن وہ ایک ایسی سطح تک پہنچنا چاہتے ہیں کہ جہاں صرف ایک سیاسی فیصلہ کرنے کی دیر ہو اور چند ہفتوں یا مہینوں میں جوہری ہتھیار ان کے پاس ہوں۔‘

اسرائیلی ماہر ریز زیمٹ کہتے ہیں کہ اس وقت یہی سیاسی بحث ہے کہ کیا اسرائیل یہ قبول کر لے کہ ایران اس سطح تک پہنچ جائے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں نہیں لیکن کچھ کہتے ہیں کہ اسے روکنا بہت مشکل ہے۔

’جب آپ کے سامنے ایران جیسا ملک ہو جس کے پاس ٹیکنالوجی، صلاحیت اور عزم ہو تو اسے روکنا بہت مشکل ہے۔‘

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *