نیو یارک کا ’آدم خور پولیس اہلکار‘ جسے ایک ہی دن میں پاکستان اور امریکہ سے تین خواتین کو اغوا کرنا تھا

Vehicle Tracking Solution

نیو یارک کا ’آدم خور پولیس اہلکار‘ جسے ایک ہی دن میں پاکستان اور امریکہ سے تین خواتین کو اغوا کرنا تھا

December 30, 2020 International News 0

جیسا کہ انٹرنیٹ کے ہمارے گھروں میں آنے کے بعد سے ہوا ہے، کیتھلین مینگن ویلے کو بھی اپنے شوہر کے آن لائن گزارے گئے وقت پر شک ہونے لگا تھا۔

ان کے شوہر اپنا کمپیوٹر خراب ہو جانے کی وجہ سے اُن کا کمپیوٹر استعمال کر رہے تھے، چنانچہ کیتھلین نے اپنے کمپیوٹر پر ایک سافٹ ویئر انسٹال کر دیا تاکہ یہ پتا چلایا جا سکے کہ کہیں ان کے شوہر کا کسی خاتون کے ساتھ چکر تو نہیں چل رہا؟

ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ انھیں کیا نظر آئے گا۔

خواتین پر تشدد اور جنسی حملوں کی فوٹیج کے علاوہ انھوں نے پایا کہ انٹرنیٹ پر ایسے فقرے بھی سرچ کیے گئے تھے کہ ’کسی عورت کو اغوا کیسے کیا جائے‘ یا ’انسانی گوشت پکانے کی ترکیبیں‘ اور ’سفید فام افراد کی غلامی۔‘

اس کے علاوہ انھوں نے انٹرنیٹ پر عجیب اقسام کی جنسی خواہشات کے لیے بنائے گئے فورم پر جنسی حملوں اور آدم خوری کی تفصیلی کہانیاں بھی پوسٹ کیں اور اس فورم پر ان کی آئی ڈی ’گرل میٹ ہنٹر‘ یعنی ’لڑکیوں کے گوشت کا شکاری‘ تھی۔

اس سے بھی بری بات یہ تھی کہ ان کے شوہر دوسرے مردوں کے ساتھ آن لائن اس بارے میں بات کیا کرتے کہ اپنی آشنا خواتین بشمول یونیورسٹی کی دوستوں، ایک مقامی نوعمر لڑکی اور یہاں تک کہ خود انھیں کہاں، کیسے اور کس چیز کے ساتھ اغوا کر کے قتل کیا جائے اور ان کا گوشت کھایا جائے۔

بلآخر اکتوبر 2012 میں ان کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا۔

کیتھلین نے فروری 2013 میں اپنے شوہر کے ٹرائل کے دوران عدالت کو روتے ہوئے بتایا کہ ’وہ میرے پیر باندھ کر میرا گلا کاٹنا چاہتے تھے اور پھر میرا خون بہتا دیکھ کر مزہ لینا چاہتے تھے۔‘

ان کے شوہر سمیت انٹرنیٹ پر موجود دیگر مردوں کے جنسی جنون میں یہ بھی شامل تھا کہ دو دیگر خواتین کا ’ایک دوسرے کے سامنے ریپ کیا جائے تاکہ وہ زیادہ خوف زدہ ہو جائیں۔‘ ایک اور عورت کو زندہ جلایا جانا تھا اور دو دیگر کو گرل پر لگا کر باری باری 30 منٹ کے لیے پکایا جانا تھا تاکہ ان کی تکلیف دیر تک جاری رہے۔

صدمہ انگیز اور بھیانک

گلبرٹو ویلے (کیتھلین کے شوہر) نے جب اپنی اہلیہ کی عدالت کے سامنے گواہی سنی تو وہ بھی رو پڑے۔

اپنا کھیل ختم ہونے سے قبل تک وہ نیویارک پولیس میں بھرتی ایک 28 سالہ اہلکار تھے، ان کے پاس سائیکالوجی کی ڈگری تھی اور چند ماہ قبل ہی ان کے گھر بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔

ان پر انٹرنیٹ پر خواتین کو اغوا کرنے، ان کا ریپ و قتل کرنے اور انھیں کھانے کے الزامات عائد کیے گئے۔

اس کے علاوہ ان پر کئی خواتین کے پتے اور فون نمبر وغیرہ حاصل کرنے کے لیے ایک سرکاری ڈیٹابیس کے استعمال کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

ثبوت اتنے مضبوط تھے کہ انھیں جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا۔

مینگن ویلے خوف زدہ ہو کر اپنے والدین کے گھر فرار ہو گئیں تھیں اور انھوں نے ایف بی آئی سے رابطہ کر کے انھیں اپنے لیپ ٹاپ اور گھر میں موجود ایک اور کمپیوٹر تک رسائی دی تھی۔

استغاثہ کے پاس متعدد مثالیں تھیں۔ مثلاً امریکی اٹارنی جنرل رینڈل ڈبلیو جیکسن نے اپنی تقریر کے ابتدائیے میں بتایا کہ ’ایک گفتگو میں مسٹر ویلے نے اپنی ایک آشنا خاتون کے بارے میں بات کی اور انھیں اوون میں ڈالنے کا منصوبہ بنایا۔‘

ڈارک ویب پر اپنی گفتگو میں انھوں نے جرائم کرنے کی باریک سے باریک تفصیلات پر بھی بحث کی تھی۔

وکیلِ دفاع نے ان ثبوتوں کی سچائی پر اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ انھوں نے تسلیم کیا کہ یہ صدمہ انگیز اور بھیانک ہیں، بالکل کسی ڈراؤنی فلم کی طرح۔

مگر وکیل جولیا ایل گیٹو نے یہ بھی کہا کہ ان میں اور ڈراؤنی فلموں میں ایک بات مشترکہ تھی ’وہ مکمل طور پر افسانوی کہانیاں ہوتی ہیں اور یہ دل دہلا دینے والی خواہشات ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ مقدمہ ’بنیادی اصولوں‘ کا ٹیسٹ ہے ’کہ کیا ہم اپنے ذہن کے سیاہ ترین خیالات پر سوچنے، ان کا اظہار کرنے اور انھیں لکھنے کا حق رکھتے ہیں یا نہیں۔‘

اور حقیقت یہ ہے کہ اس سب کے بعد بھی ویلے کی تذکرہ کردہ خواتین کے خلاف معمولی سے معمولی جارحیت کا بھی کوئی عملی یا ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا۔

قصور وار؟

جس کیس کو پریس نے ’آدم خور پولیس اہلکار‘ قرار دیا، اسے قانون کے سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے کیونکہ اس سے ’عام‘ اور ’خطرناک‘ خیالات کے درمیان حائل نفسیاتی اور قانونی لکیروں کے بارے میں حیران کُن سوالات اٹھتے ہیں۔

جرم روکنے کے نام پر مداخلت کرنے کا درست وقت کون سا ہوتا ہے؟ کیا خواہشات جرم ہو سکتی ہیں؟

مقدمے میں موجود جیوری کے نزدیک اس کا جواب ’ہاں‘ میں تھا۔

ویلے کو ’اغوا کی سازش کرنے‘ اور ’وفاقی ڈیٹابیس کی بلااجازت سرچنگ کرنے‘ کا مجرم پایا گیا اور اپنی لکھی گئی ایک بھی چیز پر عمل نہ کرنے کے باوجود انھیں جیل بھیج دیا گیا۔

مگر کیا یہ ان مصنفین کی طرح نہیں ہے جو کامیاب ترین کتابیں، فلمیں اور ٹی وی شوز لکھتے ہیں؟

یہ درست ہے کہ ان لوگوں کے برعکس ویلے اور وہ لوگ جن کے ساتھ مل کر انھوں نے ان خیالات کا اظہار کیا، ایسا اس لیے کیونکہ وہ ایسے جنسی ہیجان میں مبتلا تھے جن کی وجہ سے وہ ایسی صورتحال کے تصور قائم کرتے ہیں۔

مگر ویلے کو مجرم پایا گیا، صرف اپنے تصورات لکھنے کے لیے نہیں بلکہ دیگر افراد کے ساتھ جرائم کی سازش کے لیے ای میلز لکھنے پر بھی۔

انھوں نے جو کیا وہ ’جرم کی ابتدا‘ یا انسیپیئنٹ کرائم تھا۔ امریکہ، جہاں ان پر مقدمہ چلایا گیا، میں یہ تخیلاتی جرم کے قریب ترین ہے۔

یہ ایسے جرائم ہوتے ہیں جن میں اب تک کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہوتا اور نہ ہی یہ جرائم وقوع پذیر ہوتے ہیں مگر کیا انھوں نے واقعی وہ کیا ہوتا ہے جس کی وہ منصوبہ بندی کر رہے تھے؟ کیا اس سے فرق پڑتا ہے؟

میں اسے قتل کر دوں گا

یہ بات مدِنظر رکھنی چاہیے کہ ویسے تو آدم خوری کی خواہشات مبینہ طور پر اتنی عام تو نہیں ہوتیں، لیکن قتل کی خواہشات بظاہر کافی عام ہیں۔

انھیں ’ہومیسائڈل آئیڈیئشن‘ یعنی کسی کا قتل کرنے کے بارے میں خیالات کہا جاتا ہے اور کئی سائنسدانوں نے اس پر تحقیق کی ہے۔

ایک تحقیقی مطالعے میں پایا گیا کہ 73 فیصد مردوں اور 66 فیصد خواتین نے اپنی زندگی میں کسی نہ کسی کو قتل کرنے کے بارے میں سوچا ہے۔ تصدیق کے لیے انھوں نے ایک مرتبہ پھر یہ تجربہ دہرایا اور یہی شرح پائی گئی، 79 فیصد مرد اور 58 فیصد خواتین نے ایسا سوچا تھا۔

مطالعے میں شریک لوگ کسے قتل کرنا چاہتے تھے؟

مردوں کے بارے میں زیادہ امکان تھا کہ وہ ملازمت پر اپنے ساتھیوں یا اجنبیوں کو قتل کریں گے جبکہ خواتین کے بارے میں یہ ممکنہ نشانہ خاندان کے فرد تھے۔

مگر کیوں؟

یونیورسٹی کالج لندن میں ریسرچ ایسوسی ایٹ اور مجرمانہ نفسیات کی ماہر جولیا شا کے مطابق ارتقائی نفسیات کے چند ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے خیالات مختلف صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

جولیا بی بی سی کی ‘بیڈ پرسنز’ پوڈکاسٹ کی شریک میزبان بھی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’اس طرح کی خواہشات اصل میں خیالی منصوبہ بندیوں کی ہماری صلاحیت سے جنم لیتے ہیں۔ اس سے ہم خود سے یہ سوال پوچھ پاتے ہیں: اگر میں نے کچھ انتہائی غلط کیا، تو کیا ہو گا؟‘

’جب ہم ذہنی طور پر اس صورتحال کی ریہرسل کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ کسی شخص کا قتل شاید ایسا کوئی کام نہیں جو ہم واقعی کرنا چاہتے ہیں یا جس کے نتائج کے ساتھ ہم زندگی گزار سکتے ہیں۔‘

ویسے تو یہ اچھے خیالات نہیں ہوتے، لیکن کتاب ’میکنگ ایول‘ کی مصنفہ جولیا شا کہتی ہیں کہ ’ہم میں سے وہ لوگ جو مستقبل کے رویوں کا ذہنی ٹیسٹ نہیں کر سکتے، وہ ممکنہ طور پر جذبات میں آ کر عمل کر دیں گے اور پھر زندگی بھر اس پر افسوس کرتے رہیں گے۔‘

برے خیالات

تو بری خواہشات پر سوچتے رہنا ممکنہ طور پر اچھا بھی ہو سکتا ہے۔

مگر وہ کون سی لکیر ہے جسے پار نہیں کرنا چاہیے؟

اور اپیل سننے والے ایک جج کے مطابق یہ لکیر وہاں نہیں ہے جہاں ویلے پائے گئے تھے۔ انھوں نے 21 ماہ بعد اصل فیصلے کو ختم کر دیا تھا۔

جج پال گارڈیف نے قرار دیا کہ ’اپنی اہلیہ، یونیورسٹی کی سابق ساتھیوں اور آشناؤں کے بارے میں شرانگیز اور عورت دشمن جنسی خیالات واقعتاً ایک بیمار ذہن کی عکاسی کرتے ہیں‘ مگر ان کے مطابق یہ مجرم قرار دینے کے لیے ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔

انتہائی تفصیلی منصوبوں کے باوجود جج گارڈیف ویلے کی آزادی چھیننے پر قائل نہیں ہوئے۔ اپنے فیصلے میں انھوں نے ایک صورتحال کا حوالہ دیا جس میں ویلے نے مبینہ طور پر اپنے آن لائن دوستوں کے ساتھ سنہ 2012 کے اوائل میں ایک ہی پیر کے روز تین خواتین کو اغوا کرنے پر ’اتفاق‘ کیا تھا، جن میں سے ایک خاتون نیویارک شہر، ایک پاکستان اور ایک ریاست اوہائیو میں تھیں۔

جج نے قرار دیا کہ ’کوئی بھی معقول جیوری اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتی کہ ویلے واقعی کسی خاتون کو اس تاریخ پر اغوا کرنا چاہتے تھے۔‘

جولائی 2014 میں ان کی وکیل جولیا گیٹو نے عدالت سے نکلتے ہوئے کہا کہ ’وہ صرف انتہائی غیر روایتی سوچ کے مجرم ہیں۔‘

جولیا نے مزید کہا کہ ’حکومت کو ہمارے ذہنوں میں نہیں گھسنا چاہیے۔‘

سنہ 2016 میں ایک کتاب ’نیویارک پولیس کے آدم خور اہلکار کی ان سنی کہانی‘ شائع ہوئی۔ اس کے شریک مصنف خود گلبرٹو ویلے تھے اور ذیلی عنوان ’ایک یادداشت‘ تھا۔

کتاب کے پبلشر وائلڈ بلیو پریس نے اس کتاب کی اشاعت کی وجہ بیان کرنے کے لیے ایک پیش لفظ لکھنا ضروری سمجھا۔ اس نوٹ میں انھوں نے لکھا کہ عوام کی اکثریت کی طرح وہ بھی خواتین سے مصنف کے تصوراتی سلوک سے نفرت کرتے ہیں۔

مگر انھوں نے لکھا ’مگر یہ سوچنا بھی اہم ہے کہ کب ایک خیال لکیر پار کر جاتا ہے اور جرم بن جاتا ہے، اور کیا ایسا ہوتا بھی ہے؟‘

اس لیے ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ کتاب شائع کی۔

تب سے اب تک ویلے نے چار ناولز تحریر کیے ہیں اور پہلے وہ جو چیزیں خفیہ طور پر لکھتے تھے، اب اسے فروخت کر کے پیسے کماتے ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *