قطر بحران: سعودی عرب اور اتحادیوں کے قطر سے سفارتی تعلقات بحال

Vehicle Tracking Solution

قطر بحران: سعودی عرب اور اتحادیوں کے قطر سے سفارتی تعلقات بحال

January 5, 2021 International News 0

قطر اور اس پر پابندیاں عائد کرنے والی چار عرب ریاستوں میں سفارتی تعلقات بحال ہوگئے ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرہاد نے بتایا ہے کہ ان ممالک نے ’پوری طرح سے اپنے اختلافات ختم کرنے‘ پر اتفاق کیا ہے۔

اس سے قبل جی سی سی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب آمد پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خود قطری امیر کا استقبال کیا تھا۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے 2017 میں قطر سے تعلقات ختم کر دیے تھے اور اس پر شدت پسندی کی معاونت کرنے کا الزام لگایا تھا۔ قطر ان الزمات سے انکار کرتا آیا ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اجلاس کے موقع پر اپنی افتتاحی تقریر میں کہا تھا کہ ‘ان کوششوں کی مدد سے ہم مشترکہ بیان پر متفق ہوئے ہیں جس پر العلا کے اجلاس میں دستخط کیے جائیں گے اور ہم خلیج، عرب ممالک اور مسلم یکجہتی کے بارے میں اپنے عزم اور استحکام کا اعادہ کریں گے۔’

ان کا مزید کہنا تھا: ‘آج ہمیں شدید ضرورت ہے کہ اپنے خطے کی تشہیر کریں اور اپنے ارد گرد کے درپیش مسائل اور خطرات، بالخصوص ایرانی حکومت کے جوہری اور بلیسٹک میزائل پروگرام اور اس کے تباہی اور سبوتاژ کرنے کے منصوبوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔’

فرینک گارڈنر کا تجزیہ

جی سی سی اجلاس کے بارے میں تجزیہ کرتے ہوئے بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی امور فرینک گارڈنر کا کہنا ہے قطر پر لگائی گئی پابندیاں ہٹانے کے لیے مہینوں سے سفارتی کوششیں جاری تھیں جس میں کویت کا بڑا اہم کردار تھا لیکن ساتھ ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اشارے دیے گئے تھے جہاں موجودہ صدر ٹرمپ کا دور صدارت اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے۔

فرینک گارڈنر نے اس پر مزید تبصرہ کیا کہ ساڑھے تین سال کے عرصے پر محیط اس پابندی سے نہ صرف قطر کو شدید معاشی نقصان ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے آپس کے اتحاد کو بھی بہت ٹھیس پہنچی ہے اور قطر اتنی جلدی اپنے ساتھ کیے گئے اس سلوک کو نہ بھولے گا نہ معاف کرے گا جسےوہ خلیجی ممالک کی جانب سے اپنی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف سمجھتا ہے۔

فرینک گارڈنر لکھتے ہیں کہ سفارتی بیان بازی اپنی جگہ، متحدہ عرب امارات کو ابھی بھی قطر سے بہت خدشات لاحق ہیں اور انھیں شک ہے کہ قطر اپنی ڈگر نہیں بدلے گا۔

قطر نے دہشت گردی میں معاونت کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے، لیکن ساتھ ساتھ اس نے غزہ اور لبیا میں سیاسی اسلام کی تحریکوں اور اخوان المسلمین کی ہمیشہ مدد کی ہے جسے متحدہ عرب امارات اپنی سلطنت کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔

پابندیوں کے بعد قطر نے خلیجی ممالک کے بجائے ترکی اور ایران کا رخ کیا اور ان کے زیادہ نزدیک ہو گیا

اس سے قبل پیر کی شب سعودی عرب نے قطر کے ساتھ اپنی سرحد دوبارہ کھول دی تھی جس کے بعد منگل کو قطری امیر شیخ تمیم بن حماد التھانی کا سعودی عرب آمد پر سلطنت کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ان کا استقبال کیا تھا۔

یہ سعودی عرب اور قطر کے مابین ساڑھے تین برس قبل منقطع ہونے والے تعلقات کی بحالی کے سلسلے میں پہلا بڑا قدم تھا۔

اس سے قبل قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی کی ٹویٹ کے مطابق ’قطر کے امیر قطری ریاست کے ایک وفد کی سربراہی کریں گے جو منگل کے روز (سعودی عرب میں) خلیج تعاون کونسل کی سپریم کونسل کے 41ویں سیشن میں شرکت کرے گا۔‘

یہ اعلان قطر کے وزیر خارجہ کی جانب سے کیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے سعودی عرب کے ساتھ قطر کی زمینی، فضائی اور بحری سرحدیں دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

قطر کے وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ خلیج تعاون کونسل کے ممبر ممالک سعودی عرب میں آج سے شروع ہونے والے اجلاس کے دوران قطر کا بائیکاٹ باقاعدہ ختم کرنے کے بیان پر بھی دستخط کریں گے۔

اس سے قبل کویت نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب قطر کے ساتھ اپنی سرحدیں دوبارہ کھول رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع کے خاتمے کی جانب اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے جون 2017 میں قطر کے مبینہ طور پر دہشت گردی کی حمایت کرنے اور ایران کے ساتھ روابط رکھنے کی بنا پر اس سے تعلقات ختم کرتے ہوئے قطر کے آگے کئی مطالبات رکھے تھے۔

قطر ایک چھوٹی لیکن بہت مالدار خلیجی ریاست ہے اس نے ہمیشہ اسلامی جنگجوؤں کی حمایت کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

بات یہاں تک پہنچی کیسے؟

اس خبر کا سب سے پہلے اعلان کویت کے وزیر خارجہ احمد نصر الصباح نے ٹی وی پر گذشتہ روز کیا تھا۔

بی بی سی کے عرب امور کے مدیر سبیسٹین عشر کی رپورٹ کے مطابق قطر اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک کویت نے ابھی حال ہی میں تھوڑی کامیابی حاصل کی لیکن اس سے پہلے کے کچھ مہینوں تک ’فیس سیونگ‘ کے لیے کسی قرارداد کے آثار بڑھتے دکھائی دے رہے تھے جس نے اس عمل میں شامل سبھی ممالک کو نقصان پہنچایا۔

دونوں ملکوں کے تعلقات کی بحالی کے لیے امریکی انتظامیہ کا واضح کردار نظر آتا ہے۔ سینیئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے داماد اور سینیئر مشیر منگل کو قطر اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میں شامل ہوں گے۔

قطر کے امیر تمیم بن حماد التھانی نے سعودی بادشاہ، شاہ سلمان کی جانب جی سی سی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت کو قبول کیا تھا۔

بی بی سی کی بین الاقوامی امور کی چیف نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کی رپورٹ کے مطابق جی سی سی کا اجلاس منعقد کرنے والوں میں شامل ایک ذریعے سے انھیں معلوم ہوا ہے کہ سعودی حکام کی جانب سے قطر کے لیے اپنے فضائی، بحری اور بری راستے کھولنے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کا اقدام ہے تاکہ اجلاس میں قطری امیر کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

سنہ 2017 میں جب قطر پر یہ پابندیاں عائد کی گئی تھیں تو قطری امیر نے کہا تھا کہ وہ ایسے کسی ملک کا سفر نہیں کریں گے جس نے قطری شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل سے گفتگو میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک افسر نے کہا کہ یہ اب تک ہمارے لیے سب سے بڑی پیش رفت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگیں گے اور بہترین دوست بن جائیں گے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہوں گے۔

اس خبر کے سامنے آنے سے پہلے ہی ذرائع ابلاغ میں یہ اس امید کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ سعودی عرب کے تاریخی مقام ال اولہ میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اکتالیسویں اجلاس کے نتیجے میں خطے کے ممالک میں تین سال سے جاری تناؤ کے بعد اب قریبی تعاون بڑھ سکے گا۔

جی سی سی ممالک میں سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور عمان شامل ہیں۔

قطر کے ساتھ تعلقات

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے 2017 کے وسط سے قطر کے ساتھ سفارتی ، تجارتی اور فضائی تعلقات منقطع ہونے کے بعد اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے امریکہ اور کویت نے مل کر کوشش کی ہے۔

چاروں ممالک نے دوحہ پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ قطر نے جو خطے میں امریکی فوج کے سب سے بڑے اڈے کی میزبانی کرتا ہے، ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ بائیکاٹ کا مقصد اس کی سالمیت اور خودمختاری کو نقصان پہنچانا ہے۔

ان ممالک نے تعلقات کی بحالی کے لیے قطر کے سامنے 13 مطالبات رکھے تھے جن میں الجزیرہ چینل کو بند کرنا، ایک ترک اڈہ خالی کروانا، اور اخوان المسلمین سے تعلقات کو ختم کرنا شامل ہے۔

قطر نے بار بار کہا ہے کہ وہ بغیر کسی شرط کے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *