اویغور کیمپوں میں منظم انداز میں مبینہ ریپ کا انکشاف: ’پتا نہیں وہ انسان تھے یا جانور‘

Vehicle Tracking Solution

اویغور کیمپوں میں منظم انداز میں مبینہ ریپ کا انکشاف: ’پتا نہیں وہ انسان تھے یا جانور‘

February 4, 2021 International News 0

چین میں اویغور افراد کے لیے بنائے گئے ‘تربیتی کیمپوں‘ میں خواتین کو ایک منظم انداز میں ریپ کیا جاتا ہے، انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے اور اُن پر تشدد کیا جاتا ہے۔ بی بی سی کو ان کیمپوں کے بارے میں نئی اطلاعات موصول ہوئی ہے۔ اس کہانی میں موجود تفصیلات چند قارئین کے لیے تکلیفدہ ہو سکتی ہیں۔

BBC

تورسنے زیائدین یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہاں (کیمپ میں) مرد ہمیشہ ماسک پہنے ہوئے ہوتے تھے اس بات سے قطع نظر کہ اس وقت تک کورونا کی عالمی وبا نہیں پھیلی تھی۔

وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے سوٹ پہنے ہوتے تھے، ناکہ روایتی پولیس یونیفارم۔

رات بارہ بجے کے بعد وہ آتے تھے اور اپنی مرضی کی خواتین چُن کر ایک راہداری میں لے جاتے تھے، جہاں کوئی کیمرا نصب نہیں تھا۔

زیائدین کہتی ہیں کہ متعدد مرتبہ رات کے وقت انھیں بھی اُس راہداری میں لے جایا گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ وہاں جو کچھ ہوا وہ بھلانا بہت مشکل ہے۔ ‘میں چاہتی ہوں کہ یہ الفاظ میرے منھ سے ہی نہ نکلیں۔‘

grey_new

تورسنے زیائدین نے چین کے صوبے سنکیانگ میں موجودہ حراستی مراکز کے خفیہ نظام میں نو ماہ گزارے ہیں۔ آزادانہ اندازوں کے مطابق ان کیمپوں میں تقریباً دس لاکھ سے زیادہ مرد اور خواتین کو رکھا گیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں کا مقصد اویغور اور دیگر اقلیتوں کی ‘تعلیمِ نو‘ ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ چینی حکومت نے وقتاً فوقتاً اویغوروں کی مذہبی آزادی ختم کی ہے جو کہ ایک بڑے پیمانے پر نگرانی کے نظام، حراستوں، زبردستی تعلیم، اور یہاں تک کہ لوگوں کو بانجھ کرنے کی مہم کی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔

یہ پالیسی چین کے صدر شی ژن پنگ کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ صدر نے سنہ 2014 میں علیحدگی پسندوں کے دہشتگردانہ حملے کے بعد سنکیانگ صوبے کا دورہ کیا تھا۔ اس کے تھوڑے عرصے کے بعد نیو یارک ٹائمز کو لیک کی گئی کچھ دستاویزات کے مطابق صدر نے حکام سے کہا تھا کہ وہ ‘بالکل کسی رحم‘ کے بغیر اس کا سدِ باب کریں۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ چینی اقدامات نسل کشی کے مترادف ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر حراستوں اور لوگوں کو بانجھ کرنے کی اطلاعات ’سراسر جھوٹ‘ ہیں۔

ان کیمپوں کے اندر کے حالات کی کہانیاں مشکل سے ہی ملتی ہیں تاہم متعدد ایسے افراد جنھیں وہاں بند رکھا گیا اور ایک گارڈ نے بی بی سی سے بات کی ہے اور بتایا ہے کہ انھوں نے وہاں پر منظم انداز میں ہونے والے ریپ اور تشدد کے شواہد دیکھے ہیں۔

تورسنے زیائدین اپنی رہائی کے بعد امریکہ منتقل ہو گئیں تھیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ خواتین کو ان کے کمروں سے رات کو نکالا جاتا ہے اور ماسک پہننے مرد انھیں ریپ کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تین مرتبہ ان کا گینگ ریپ کیا گیا اور ہر مرتبہ دو سے تین مردوں نے انھیں ریپ کیا۔

تورسنے زیائدین نے پہلے بھی میڈیا سے بات کی ہے مگر اس وقت وہ قازقستان میں تھیں جہاں انھیں ہر وقت یہ خدشہ لاحق رہتا تھا کہ انھیں چین واپس بھیج دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں یہ خوف تھا کہ اگر انھوں نے جنسی تشدد کی اصل کہانی ظاہر کر دی اور انھیں چین واپس بھیج دیا گیا تو انھیں اس سے زیادہ سخت سزا دی جائے گی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کے علاوہ انھیں اس پر شرمندگی بھی تھی جو کچھ ان کے ساتھ ہوا۔

تورسنے زیائدین کی کہانی کی آزادانہ تصدیق کرنا ممکن نہیں کیونکہ چین میں صحافیوں پر شدید پابندیاں ہیں۔ تاہم انھوں نے جو سفری دستاویزات اور امیگریشن ریکارڈ بی بی سی کو پیش کیا ہے وہ ان کے بیانات کی کسی حد تک تائید کرتا ہے۔

ان کی سنکیانگ کی کیونز کاؤنٹی میں کیمپ کے بارے میں معلومات، بی بی سی کی جانب سے دیکھی گئی سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق معلوم ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کیمپوں کے اندر موجود حالات جو انھوں نے بیان کیے ہیں، ان کیمپوں سے رہا ہونے والے دیگر افراد بھی ان کی تصدیق کرتے ہیں۔

سنہ 2017 اور سنہ 2018 کا کیونز کاؤنٹی کا عدالتی ریکارڈ بی بی سی کو ایڈرئن زینز نے فراہم کیا ہے جو کہ چین کی سنکیانگ میں پالیسیوں کے حوالے سے ایک اہم ماہر ماننے جاتے ہیں۔

اس ریکارڈ میں ‘اہم گروہوں کی تعلیم کے ذریعے تبدیلی‘ کی تفصیلی منصوبہ بندی اور اخراجات کے شواہد ملتے ہیں۔ یہ الفاظ چین میں اویغور کی تعلیمِ نو کو بیان کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک دستاویز میں اس ‘تعلیمی عمل‘ کو ‘ذہن سازی‘ ’دلوں کی صفائی، ’حق کی مضبوطی‘، اور ’باطل کا خاتمہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

بی بی سی نے سنکیانگ سے ایک قازق خاتون کا انٹرویو بھی کیا جنھیں 18 ماہ تک اس کیمپ سسٹم میں رکھا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں اس پر مجبور کیا گیا کہ وہ اویغور خواتین کو برہنہ کریں اور انھیں ہتھ کڑیاں لگائیں اور پھر انھیں چینی مردوں کے سامنے اکیلا چھوڑ دیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بعد میں وہ کمرے کو صاف کیا کرتی تھیں۔

گلزیرہ ایولخان بتاتی ہیں کہ ‘میرا کام تھا کہ خواتین کی قمیضیں اُتاروں اور پھر انھیں ہتھ کڑیاں لگاؤں تاکہ وہ ہل نہ سکیں۔‘ یہ کہتے ہویے وہ اپنے سر کے پیچھے اپنی کلائیاں لے جا کر دیکھاتی ہیں کہ وہ کس پوزیشن میں خواتین کو ہتھ کڑیاں لگاتی تھیں۔

‘پھر میں کمرے سے باہر آ جاتی تھی اور کوئی چینی مرد کبھی باہر سے یا پھر کوئی پولیس والا کمرے میں داخل ہوتے تھے۔ میں کمرے کے باہر خاموشی سے بیٹھی ہوتی تھی اور جب وہ مرد کمرے سے نکلتا تھا تو میں اس خاتون کو نہانے کے لیے لے کر جاتی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’چینی مرد نوجوان قیدیوں اور خوبصورت قیدیوں کو حاصل کرنے کے لیے رقم بھی ادا کرتے تھے۔‘

ان کیمپوں کے کچھ اور سابق قیدیوں نے کہا ہے کہ انھیں گارڈز کی مدد کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا یا پھر انھیں سزا دی جاتی تھی۔ گلزیرہ ایولخان کہتی ہیں کہ مداخلت کرنے یا مزاحمت کرنے کی ان میں طاقت نہیں تھی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہاں پر ریپ کا ایک منظم نظام تھا، تو انھوں نے کہا ‘ہاں بالکل تھا۔‘

تورسنے زیائدین کا کہنا ہے کہ کچھ خواتین کو جب لے کر جایا جاتا تھا تو وہ لوٹتی نہیں تھیں۔ کچھ خواتین جو لوتٹی تھیں، انھیں کہا جاتا تھا کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ کسی کو نہیں بتائیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’آپ کسی کو کچھ نہیں بتا سکتے۔ آپ بس خاموشی سے آ کر لیٹ سکتے ہیں۔ اس کا مقصد آپ کے حوصلے کو تباہ کرنا ہے۔‘

ایڈرئن زینز نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘جب سے یہ معاملہ شروع ہوا ہے، یہ اس کی خوفناک ترین کہانیاں ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں ‘یہ شواہد اس بدترین خدشے کی تائید کرتے ہیں جو شروع سے ہمارے ذہنوں میں ہیں۔ یہ جنسی تشدد کا تفصیلی منظرنامہ ہے اور یہ ہمارے پہلے خدشات سے بھی زیادہ بُرے حالات بیان کرتا ہے۔‘

ویغور برادری زیادہ تر ایک مسلم ترک اقلیتی گروہ پر مشتمل ہے اور ایک اندازے کے مطابق سنکیانگ میں ایک کروڑ دس لاکھ اویغور رہتے ہیں۔ اس صوبے سے متصل قازقستان ہے اور یہاں نسلی قازق بھی رہتے ہیں۔ 42 سالہ تورسنے زیائدین خود اویغور ہیں جبکہ ان کے شوہر قازق ہیں۔

پانچ سال تک قازقستان رہنے کے بعد یہ دونوں سنکیانگ سنہ 2016 کے آخر میں لوٹے تھے۔ تورسنے کہتی ہیں کہ یہاں آمد پر ان سے تفتیش کی گئی اور ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے۔ کچھ ماہ بعد پولیس نے ان سے کہا کہ وہ کچھ دیگر اویغور اور قازق افراد کے ساتھ ایک میٹنگ میں شرکت کریں۔ جب وہ وہاں گئیں تو ان سب کو حراست میں لے لیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب پہلی مرتبہ انھیں حراست میں رکھا گیا تو وہ قدرے بہتر وقت تھا جب انھیں ٹھیک سے کھانا ملتا تھا اور ان کی فون تک رسائی تھی۔

ایک ماہ بعد ان کے معدے میں السر ہو گیا اور انھیں رہا کر دیا گیا۔ ان کے شوہر کا پاسپورٹ لوٹا دیا گیا اور وہ قازقستان کام کے لیے چلے گیے مگر حکام نے تورسنے کا پاسپورٹ اپنے پاس ہی رکھا اور انھی سنکیانگ میں پھنسا لیا۔ اطلاعات کے مطابق چینی حکام ملک سے جانے والوں کے رشتے داروں کو جان بوجھ کر حراست میں رکھتے ہیں تاکہ باہر جانے والے حکومت کے خلاف بیانات نہ دیں۔

نو مارچ 2018 کو تورسنے سے کہا گیا کہ وہ ایک مقامی پولیس سٹیشن جائیں کیونکہ انھیں مزید ‘تعلیم‘ کی ضرورت تھی۔

تورسنے کہتی ہیں کہ انھیں پھر اسی حراستی مرکز میں لے جایا گیا جہاں انھیں پہلے لے جایا گیا تھا۔ مگر اس مرتبہ وہ جگہ کافی بدل چکی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس مرتبہ حراستی مرکز کے باہر بسیں کھڑی تھیں اور ان بسوں سے نئے قیدی اتا رہے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ خواتین سے ان کے زیور چھینے جا رہے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے کانوں سے بالیاں ایسے کھینچی گئیں کہ ان کے کانوں سے خون نکلنا شروع ہو گیا۔ انھیں ایک کمرے میں دیگر خواتین کے ساتھ دھکیلا گیا جن میں ایک معمر خاتون بھی تھیں۔ بعد میں تورسنے اور اس خاتون کی دوستی ہو گئی۔

تورسٹے کہتی ہیں کہ گارڈز نے اس معمر خاتون کا سکارف سر سے کھینچ کر اتار دیا اور وہ ان پر لمبا ڈریس (مکمل جسم ڈھانپنے والا لباس) پہننے پر چیخنے لگے۔ لمبا ڈریس پہننا اب اویغور کے لیے ایک ایسا جرم بن گیا ہے جس پر انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

تورسنے کہتی ہیں کہ انھوں نے اس معمر خاتون کے سارے پکڑے اُتار دیے یہاں تک کہ وہ انڈرویئر میں رہ گئیں۔ وہ اس قدر شرمندہ تھیں کہ ہاتھوں سے خود کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

’اس خاتون کے ساتھ ان کا رویہ دیکھ کر میں اتنا روئی۔ اور ان کے آنسو بارش کی طرح گر رہے تھے۔‘

تورسنے کہتی ہیں کہ خواتین سے کہا گیا کہ وہ اپنے چوتے اور ایسے تمام کپڑے جن میں الاسٹک یا بٹن ہوں، حکام کے حوالے کر دیں۔ پھر انھیں ان کے کمروں میں لے جایا گیا۔

پہلے ایک دو ماہ کچھ نہیں ہوا۔ انھیں اپنے کمروں میں پراپیگنڈا پروگرام زبردستی دکھائے گئے اور ان کے بال کاٹے گئے۔

پھر پولیس نے تورسنے سے ان کے شوہر کے بارے میں تفتیش شروع کر دی۔ اس دوران وہ انھیں لاتیں مارتے اور زمین پر پٹختے۔

’پولیس کے بوٹ بہت سخت اور بھاری ہوتے ہیں۔ اس لیے میں پہلے سمجھی کہ وہ مجھے کسی اور چیز سے مار رہا ہے۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ وہ میرے پیٹ پر چڑھ رہا ہے۔ میں تقریباً بےہوش ہو گئی تھی۔‘

کیمپ میں ایک ڈاکٹر نے انھیں بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ ان کے جسم میں کوئی بلڈ کلاٹ (خون کا لوتھڑا) بن گیا ہو۔ جب ان کی ساتھی قیدی حکام کو بتاتیں کہ تورسنے کا خون بہہ رہا ہے تو گارڈز کہتے تھے کہ ’خواتین کا خون بہنا عام سی بات ہے۔‘

تورسنے کہتی ہیں کہ ہر کمرے میں 14 خواتین ہوتی تھیں۔ کھڑکیوں پر سلاخیں تھیں۔ ایک بیسن تھا اور زمین میں ایک سوراخ بیت الخلا کا کام دیتا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے پہلی مرتبہ خواتین کو رات کے وقت کمروں سے لے جانے کا عمل دیکھا تو انھیں سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں سمجھی انھیں کہیں اور لے جایا جا رہا ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ پھر ’مئی 2018 میں کسی وقت۔۔۔ ‘مجھے درست تاریخ نہیں یاد کیونکہ وہاں اندر آپ کو تاریخیں نہیں یاد رہتیں‘۔۔۔ تورسنے اور ایک نوجوان لڑکی کو رات کے وقت سیل سے نکالا گیا اور ماسک پہنے ایک چینی مرد کو پیش کیا گیا۔ ان کی ساتھی کو دوسرے کمرے میں لے جایا گیا۔‘

تورسنے کہتی ہیں جیسے ہی وہ کمرے کے اندر گئی تو انھیں چیخوں کی آوازیں آنے لگیں۔ میں سمجھی وہ اس پر تشدد کر رہے ہیں۔ میں نے یہ نہیں سوچا کہ اس کا ریپ ہو رہا ہے۔‘

جو خاتون تورسنے اور ان کی ساتھی کو لائی تھی اس نے ان مردوں کو تورسنے کی صحت اور خون بہنے کے بارے میں بتایا تو مرد اس پر چیخنے لگے۔ انھوں نے اس خاتون سے کہا کہ اسے کالے کمرے میں لے جاؤ۔

‘وہ خاتون مجھے وہاں لے گئی جہاں اس نوجوان لڑکی کو لے جایا گیا تھا۔ وہاں ان کے پاس ایک الیکٹرک ڈنڈا تھا۔ مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھا۔ انھوں نے وہ میرے اندر ڈالا اور بجلی کے جھٹکے مارے۔‘

تورسنے کہتی ہیں کہ اس رات ان پر تشدد اس وقت ختم ہوا جب اسی خاتون نے مداخلت کی اور کہا کہ یہ بیمار ہے۔ آخرکار انھیں اپنے کمرے میں واپس بھیج دیا گیا۔

ایک گھنٹے بعد ان کے ساتھ جانے والی اس نوجوان لڑکی کو بھی لوٹا دیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس کے بعد وہ لڑکی مکمل طور پر بدل گئی۔ وہ کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔ وہ ایک کونے میں بیٹھی رہتی تھی جیسے وہ کسی صدمے میں ہو۔ ان کمروں میں بہت سے ایسے لوگ تھے جو کہ پاگل ہو گئے ہیں۔‘

ان کمروں کے علاوہ ان کیمپوں میں ایک اور اہم عنصر کلاس روم تھا۔ ان قیدیوں کی ‘تربیتِ نو‘ کے لیے اساتذہ کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد اویغور اور دیگر اقلیتوں کو اپنے مذہب، زبان اور ثقافت سے ہٹا کر مرکزی دھارے کی چینی اقدار میں شامل کرنا تھا۔

سنکیانگ سے تعلق رکھنے والی ایک ازبک خاتون کلبنیر صادق یہاں چینی زبان کی استاد تھیں۔ انھیں زبردستی یہاں لایا گیا اور چینی زبان سیکھانے پر مجبور کیا گیا۔ اب وہ چین سے بھاگ چکی ہیں اور اپنے تجربے کے بارے میں بتا رہی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’خواتین کے کیمپ میں بہت سختی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے افواہیں، اور کہانیاں سنی اور انھیں ریپ کے نشان بھی نظر آئے۔ ایک دن انھوں نے انتہائی محتاط انداز میں ایک چینی خاتون پولیس افسر سے بات کی جنھیں وہ جانتی تھیں۔‘

‘میں نے اس سے پوچھا کہ مجھے ریپ کی انتہائی خوفناک کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ کیا آپ کو اس بارے میں پتا ہے؟ انھوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے کے وقت ہم صحن میں جا کر بات کریں گے۔‘

‘میں اسی لیے صحن میں گئی جہاں بہت سارے کیمرے نہیں ہوتے تھے۔ اس خاتون پولیس افسر نے کہا ہاں ریپ ایک عام بات بن گئی ہے۔ یہ گینگ ریپ ہے۔ چینی پولیس افسر نہ صرف انھیں ریپ کرتے ہیں بلکہ انھیں بجلی کے جھٹکے بھی لگاتے ہیں۔ یہ خوفناک تشدد ہے۔‘

‘میں اس پوری رات نہیں سوئی۔ میں اپنی بیٹی کے بارے میں سوچ رہی تھی جو کہ بیرونِ ملک پڑھ رہی تھی۔ میں ساری رات روتی رہی۔‘

اویغور ہیومن رائٹس پراجیکٹ سے بات کرتے ہوئے کلبنیر صادق نے بتایا کہ انھوں نے خواتین کے اندر بجلی کے ڈنڈے ڈال کر انھیں جھٹکے دینے کی کہانیاں سنی ہیں۔ یہ تورسنے کے دعوؤں کی تائید کرتا ہے۔

کلبنیر کہتی ہیں کہ چار قسم کے برقی جھٹکے دیے جاتے تھے۔۔۔ دستانہ، ہیلمٹ، کرسی اور کسی ڈنڈے سے ریپ۔

وہ کہتی ہیں کہ عمارت میں چیخوں کی آوازیں گونجتی تھیں۔ ‘مجھے کبھی دوپہر کے کھانے کے دوران آوازیں آتی تھیں، کبھی کلاس کے دوران۔‘

ایک اور استاد جنھیں اس کیمپس میں پڑھانے پر مجبور کیا گیا، سیراگل سوئتبے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ریپ عام بات تھی‘ اور گارڈ ‘اپنی مرضی کی نوجوان لڑکیاں اور خواتین کو اٹھاتے تھے اور لے جاتے تھے۔‘

انھوں نے ایک 20 یا 21 سالہ لڑکی کی خوفناک کہانی سنائی جسے گینگ ریپ کیا گیا اور تقریباً 100 قیدیوں کے سامنے لا کر کھڑا کیا گیا اور اس سے زبردستی اقرارِ جرم کروایا گیا۔

سیراگل کہتی ہیں کہ پھر سب کے سامنے پولیس والوں نے باری باری اس کا ریپ کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ اس دوران حکام نے قیدیوں پر نظر رکھی ہوئی تھی کہ کون مزاحمت کر رہا ہے، کون اپنی آنکھیں بند کر رہا ہے، کون دوسری جانب دیکھ رہا ہے، کون مٹھیاں بند کر رہا ہے۔۔۔ پھر ان لوگوں کو سزا کے لیے لے جایا گیا۔‘

سیراگل کہتی ہیں کہ اس دوران وہ بچی مدد کے لیے پکارتی رہی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ بہت خوفناک تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ میں مر گئی ہوں۔ میں مردہ تھی۔‘

BBC

BBC

اس کیمپ میں تورسنے کے دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے۔ قیدیوں کے بال کاٹے جاتے، ان پر غیر واضح قسم کے طبی ٹیسٹ کیے جاتے، انھیں دوائیاں دی جاتیں، اور ہر پندرہ دن کے بعد انھیں ایک ‘حفاظتی ٹیکا‘ لگایا جاتا جس سے جسم کا سُن ہونا اور الٹی آنا عام بات تھی۔

خواتین میں زبردستی مانع حمل آئی یو ڈی ڈال دی جاتی یا انھیں بانجھ کر دیا جاتا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک تحقیق کے مطابق سنکیانگ میں اویغوروں کو بانجھ کرنا ایک عام سی بات ہے۔ چینی حکومت نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تمام الزامات جھوٹے ہیں۔

سیراگل کہتی ہیں کہ طبی مداخلتوں کے علاوہ قیدیوں کو کئی گھنٹوں تک چینی ملی نغمے گانے پڑتے، چینی صدر کے بارے میں محب الوطن پروگرام دیکھنے پڑتے۔

’آپ کیمپ کے باہر زندگی کے بارے میں بھول جاتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم یہ ان کی ذہن سازی کا نتیجہ تھا یا ان ٹیکوں اور دوائیوں کا کہ آپ پیٹ بھر کر کھانے کے علاوہ کچھ اور نہیں سوچ سکتے تھے۔ کھانے کی شدید قلت تھی۔‘

چین سے باہر ایک ملک سے ویڈیو لنک کے ذریعے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک سابق گارڈ نے بتایا کہ جب قیدی کوئی غلطی کرتے تھے جیسے کہ صدر شی کے بارے میں کسی کتاب کا کوئی حصہ صحیح سے یاد نہیں کرتے تھے تو انھیں بطور سزا بھوکا رکھا جاتا تھا۔

اس گارڈ کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ انھوں نے دیکھا کہ لوگوں کو کیمپ میں لے جایا جا رہا تھا تو ان سب کے ہاتھوں میں کتابیں تھیں اور وہ سب کئی گھنٹوں تک اسے یاد کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔

’جو لوگ ٹیسٹ میں ناکام ہوئے انھیں اس کی بنا پر تین محتلف رنگوں کے کپڑے پہننے پڑے یعنی کپڑوں سے پتا چلتا تھا کہ آپ ٹیسٹ میں کتنی مرتبہ ناکام ہوئے ہیں۔ اور اس کی بنا پر آپ کو مختلف قسم کی سزائیں ملتی تھیں جن میں مار پیٹ اور بھوکا رکھا جانا شامل ہے۔‘

BBC

BBC

اس گارڈ کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تو نہیں ہو سکی ہے۔ مگر انھوں نے کچھ ایسے دستاویزات پیش کیے ہیں جو اس بات کا ثبوت دیتی ہیں کہ وہ ان کیمپوں میں ملازم رہے تھے۔ انھوں نے ہم سے بات اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کی۔

تاہم گارڈ کا کہنا ہے کہ انھیں قیدیوں کے ریپ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکام بجلی کے جھٹکے دیتے تھے تو انھوں نے ہاں وہ برقی جھٹکے دینے والے آلات استعمال کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سزا کے بعد قیدیوں سے مختلف قسم کے جرائم کا اعتراف کروایا جاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اعتراف میرے دل میں چھپے ہیں۔

ان کیمپوں میں صدر شی کا عکس واضح ہے۔ ان کی تصاویر ان کے کلیات دیواروں کی زینت ہیں۔ وہ اس ‘تعلیمِ نو‘ کے پروگرام کا مرکز ہیں۔ ایک سابق برطانوی سفارتکار جنھوں نے چین میں بھی اپنے ملک کی نمائندگی کی ہے کہتے ہیں کہ صدر شی ہی اویغور کے خلاف پالسی بنانے والے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ پالیسی انتہائی سینٹرلائزڈ ہے اور یہ اوپر تک جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شی کی اپنی پالیسی ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ صدر شی یا دیگر اعلیٰ سطحی حکام نے خود ریپ کی اجازت دی ہو۔ مگر انھیں پتا ضرور ہو گا۔‘

’میرے خیال میں اعلی ترین سطح پر وہ اس پر توجہ دینا پسند نہیں کرتے۔ حکم گیا ہے کہ سختی سے پالیسی پر عمل کیا جائے اور یہی ہو رہا ہے۔ اس پر کوئی پابندیاں نہیں لگائی گئی ہیں۔ مجھے یہ نہیں نظر آتا کہ اس پالیسی پر عمل کروانے والوں کو کس چیز سے رکنا ہو گا۔‘

اور تورسنے کے مطابق وہ کسی چیز سے رُکتے بھی نہیں تھے۔

’وہ صرف ریپ نہیں کرتے تھے، بلکہ آپ کے پورے جسم پر دانتوں سے کاٹتے بھی تھے۔ پتا نہیں وہ انسان تھے یا جانور۔‘

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *