‘استصواب رائے کے بعد کشمیری عوام کو یہ حق دیں گےکہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزاد’ وزیراعظم کا اعلان

Vehicle Tracking Solution

‘استصواب رائے کے بعد کشمیری عوام کو یہ حق دیں گےکہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزاد’ وزیراعظم کا اعلان

February 5, 2021 International News National News 0

کوٹلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کیا جائے، پاکستان کی مذاکرات کی پیشکش کو کمزوری نہ سمجھا جائے کیونکہ ہم اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتے، اپوزیشن والے الٹے بھی لٹک جائیں تو انہیں این آر او نہیں ملے گا، وزیر اعظم نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی قریبی آبادیوں کو بھارتی بمباری سے بچانے کیلئے پیکج کا بھی اعلان کردیا۔

یوم یکجہتی کشمیر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ انڈونیشیا کے ایک جزیرے پر عیسائی زیادہ تھے، وہاں بھی استصوابِ رائے کا وعدہ کیا گیا جو بہت جلد پورا کرکے ان کو آزاد ملک دے دیا گیا لیکن کشمیر کے لوگوں کو 1948 میں جو حق دیا گیا تھا وہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ استصواب رائے میں جب کشمیری پاکستان کے حق میں فیصلہ سنائیں گے تو اس کے بعد پاکستان کشمیر کے لوگوں کو یہ حق دے گا کہ وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان دنیا کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، بعض مسلمان ملکوں کی حکومتیں فی الوقت کشمیریوں کو سپورٹ نہیں کر رہیں لیکن وہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہیں، وہ لوگ جو مسلمان بھی نہیں ہیں لیکن انصاف پسند ہیں وہ سب بھی سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے لوگوں کو وہ حق ملنا چاہیے جس کا اقوام متحدہ نے ان سے وعدہ کیا تھا۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ جب ان کی حکومت آئی تو انہوں نے ہندوستان کو دوستی کا پیغام دیا اور کوشش کی کہ انہیں سمجھائیں کہ کشمیر کا مسئلہ ظلم سے حل ںہیں ہوسکتا کیونکہ جب قوم کھڑی ہوجائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی سپر پاور بھی اس سے نہیں جیت سکتی۔ ہندوستان جتنی مرضی فوج لے آئے کشمیر کی آبادی ان کی غلامی قبول نہیں کرے گی، کشمیر میں پیدا ہونے والے ہر بچے کے دل میں سب سے پہلے آزادی کا جذبہ بیدار ہوتا ہے، ہندوستان کو کہتا ہوں کہ آپ کبھی نہیں جیت سکتے، مودی کو پھر سے کہتا ہوں کہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

عمران خان کے مطابق جب انہوں نے بار بار مذاکرات کا پیغام دیا اور مودی نے پیشرفت نہیں کی تو شروع میں انہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ ہندوستان کیوں ان کے ساتھ ڈائیلاگ نہیں کر رہا، جب پلوامہ ہوا اور اس کے بعد ہندوستان کے طیاروں نے ہمارے درختوں کو شہید کیا تو بڑی تکلیف ہوئی، تب پتہ چل گیا کہ یہ امن اور دوستی نہیں چاہتے، ارنب گوسوامی کی واٹس ایپ چیٹ منظر عام پر آئی تو پتہ چلا کہ انہوں نے پہلے سے ہی حملے کا پلان کیا ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی ہندوستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے، مودی آپ کو پیغام ہے کہ ہندو توا کی آئیڈیالوجی آپ کو الیکشن تو جتوادے گی لیکن ہندوستان تباہ ہوجائے گا، آج پھر سے کہتا ہوں کہ کشمیر کا مسئلہ ہمارے ساتھ مل کر حل کریں ، اس کیلئے سب سے پہلے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کریں اور پھر ہمارے ساتھ بات کریں، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو ان کا حق دیں تو ہم آپ سے بات کرنے کو تیار ہیں۔

عمران خان نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے پیغام کو یہ نہ سمجھیں کہ ہم کمزوری کے عالم میں آپ سے دوستی کرنا چاہتے ہیں، پاکستان ان لوگوں کا ملک ہے جو اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتے، ہمیں کسی کا خوف نہیں ہے، کبھی یہ نہ سمجھنا کہ ہمیں کسی قسم کا ڈر اور خوف ہے، ہم چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کا حق ملے، کشمیریوں کے جمہوری حق کیلئے سارا پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ پورے  ملک کو اکٹھا کریں اور جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ان کی مدد کریں، لائن آف کنٹرول کے لوگوں کو بمباری سے بچانے کیلئے پورا پیکج تیار کیا ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے اپوزیشن کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر قسم کی سوچ اور نظریے کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں لیکن کبھی بڑے بڑے ڈاکوؤں کو این آر او نہیں دیں گے، مظفر آباد میں جمع ہونے والے سن لیں کہ آپ نے لانگ مارچ کرنا ہے تو آپ کی مدد کروں گا لیکن اگر آپ الٹا بھی لٹک جائیں تو این آر او نہیں دوں گا۔

خیال رہے کہ آج پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے مظفر آباد میں یوم یکجہتی کشمیر ریلی کا انعقاد کیا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *